جادہِ عشق میں تابندہ علم تیرے ہیں کیا بتائیں ہمیں کیا نقشِ قدم تیرےؐ ہیں دوسرا کون ہے اس شان کا ممدوح کوئی وصف جیسے سرِ قرطاس و قلم تیرے ہیں مالکِ کُل نے کیا والی و مختار تجھے یہ جہاں تیرا ہے فردوس و ارم تیرےؐ ہیں اک تریؐ دُھن ہے ہمارے لیے آہنگِ حیات شوق سینے میں بہم آنکھ میں نم تیرےؐ ہیں دل کسی موسم و ماحول کا محتاج نہیں ہوں کسی حال میں بھی ہم ہمہ دم تیرےؐ ہیں کیا مجال آنکھ اٹھے اپنی کسی اور…
Read More