نادیہ سحر ۔۔۔ راستے خوف سے بھرے ہوئے ہیں … नादिया सहर

راستے خوف سے بھرے ہوئے ہیں لوگ اندر سے سب ڈرے ہوئے ہیں وقت بدلا کہ آئنہ بدلا وہ جو پہلے تھے دوسرے ہوئے ہیں زخم ہی زخم ہو گئے ہیں ہم درد ہی درد سے بھرے ہوئے ہیں کچھ تو ایسا ہوا ہے جس کے سبب اپنے سائے سے بھی ڈرے ہوئے ہیں سامنا کیا ہوا کسی سے سحر مندمل زخم بھی ہرے ہوئے ہیں

Read More