راستے خوف سے بھرے ہوئے ہیں لوگ اندر سے سب ڈرے ہوئے ہیں وقت بدلا کہ آئنہ بدلا وہ جو پہلے تھے دوسرے ہوئے ہیں زخم ہی زخم ہو گئے ہیں ہم درد ہی درد سے بھرے ہوئے ہیں کچھ تو ایسا ہوا ہے جس کے سبب اپنے سائے سے بھی ڈرے ہوئے ہیں سامنا کیا ہوا کسی سے سحر مندمل زخم بھی ہرے ہوئے ہیں
Read MoreTag: نادیہ سحر
نادیہ سحر ۔۔۔ مرے ٹوٹے ہوئے دل کو دُکھانا مت کہا تھا نا
مرے ٹوٹے ہوئے دل کو دُکھانا مت کہا تھا نا اِن آنکھوں میں کبھی آنسو سجانا مت کہا تھا نا میں تنہا تھی میں تنہا ہوں مجھے معلوم ہے لیکن کبھی یہ بات تم مجھ کو بتانا مت کہا تھا نا مرے ہوتو مرے رہنا پرائے تم نہ ہوجانا تعلق تم زمانے سے نبھانا مت کہا تھا نا سمجھنے میں مجھے شاید غلط فہمی ہوئی تم کو مجھے احساس یہ ہرگز دلانا مت کہا تھا نا نہ ہو تعبیر جب ممکن تو سچائی بتا دینا کوئی بھی خواب اب مجھ…
Read More