تو میرے باب میں کچھ اختصار کر کے دکھا شمار کی مجھے دُھن ہے، شمار کر کے دکھا میں عشق ٹھیک،بہت ٹھیک کرنا چاہتا ہوں سو میرا عشق مجھے ایک بار کر کے دکھا نہ جانے کب تجھے تنہا یہ کام کرنا پڑے تو میرے ساتھ مرا انتظار کر کے دکھا بنا تو پھرتا ہے پیراک اپنے آپ میں تُو ذرا خرابۂ دُنیا بھی پار کر کے دکھا تُو جلتا بجھتا ہوا ہی نظر میں ٹکتا ہے یہ روشنی ہی مجھے بار بار کر کے دکھا پتا چلے کہ میں…
Read More