شاہین عباس ۔۔۔ تو میرے باب میں کچھ اختصار کر کے دکھا

تو میرے باب میں کچھ اختصار کر کے دکھا
شمار کی مجھے دُھن ہے، شمار کر کے دکھا

میں عشق ٹھیک،بہت ٹھیک کرنا چاہتا ہوں
سو میرا عشق مجھے ایک بار کر کے دکھا

نہ جانے کب تجھے تنہا یہ کام کرنا پڑے
تو میرے ساتھ مرا انتظار کر کے دکھا

بنا تو پھرتا ہے پیراک اپنے آپ میں تُو
ذرا خرابۂ دُنیا بھی پار کر کے دکھا

تُو جلتا بجھتا ہوا ہی نظر میں ٹکتا ہے
یہ روشنی ہی مجھے بار بار کر کے دکھا

پتا چلے کہ میں تیرے یہاں سے آیا ہوں
کہیں کہیں سے مجھے داغدار کر کے دکھا

یہ جھوٹ چلنا ہے اور چل پڑے گا اپنے آپ
بس ایک بار مرا اعتبار کر کے دکھا

وگرنہ مجھ کو پڑا رہنے دے پسِ پردہ
دکھانا ہے تو مجھے آر پار کر کے دکھا
ترا نتیجہ ہر اک بار مختلف کیوں ہے؟
پھر اک دفعہ ذرا میرا شمار کر کے دکھا!

میں بس گرہ کو پہنچ جاؤں، جیسے بھی پہنچوں
مرا لباس مجھے تار تار کر کے دکھا

تری نگاہ کا پہرہ کہاں کہاں نہیں تھا؟
جو کھو گئے ہیں اُنھیں واگزار کر کے دکھا

Related posts

Leave a Comment