شب کو راحت مِرے حضورؐ کی ہے یہ عنایت مِرے حضورؐ کی ہے کُو بہ کُو کہہ رہی ہے بادِ صبا یہ صباحت مِرے حضورؐ کی ہے پُھول جھڑتے ہیں اُنؐ کے ہونٹوں سے کیا فصاحت مِرے حضورؐ کی ہے آنکھ بس اُن کے خواب دیکھتی ہے یہ رفاقت مِرے حضورؐ کی ہے بے زُبانوں کی بات سُنتے ہیں کیا سماعت مِرے حضورؐ کی ہے جو یہودی کے حق میں فیصلہ دے وہ عدالت مِرے حضورؐ کی ہے پڑھنا چاہوں گا اپنی نعت، انیس کیا اجازت مِرے حضورؐ کی ہے
Read MoreTag: Muhammad Anees Ansari
محمد انیس انصاری ۔۔۔ پانی ہے ، تو دریا ہے
پانی ہے ، تو دریا ہے سوکھ گیا تو صحرا ہے اس کا نام محبت ہے اُس نے پلٹ کر دیکھا ہے اُس کے بدن کی خوشبو ہے سارا کمرہ مہکا ہے یہ آنا ، کیا آنا ہے، بادل وہ ، جو برسا ہے پیچھے میرے ، ٹریفک جام آگے سڑک پہ دھرنا ہے اہلِ تکاثر سے کہہ دو عزّت ہی سرمایہ ہے پہلے وعدہ کرنا ہے اگلا کام مُکرنا ہے بربادی کے قصّے میں کِس کا کتنا حصہ ہے اُس نے خط میں جانِ انیس! اپنا نام ہی لکھّا…
Read More