ایک جھونکا ہوا کا آیا زیبؔ اور پھر میں غبار بھی نہ رہا
Read MoreTag: Zaib Ghori Poetry
زیب غوری
چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں
Read Moreزیب غوری
کچھ دور تک تو چمکی تھی میرے لہو کی دھار پھر رات اپنے ساتھ بہا لے گئی مجھے
Read Moreزیب غوری
یہ ڈوبتی ہوئی کیا شے ہے تیری آنکھوں میں ترے لبوں پہ جو روشن ہے اس کا نام ہے کیا
Read Moreزیب غوری
کھلی چھتوں سے چاندنی راتیں کترا جائیں گی کچھ ہم بھی تنہائی کے عادی ہو جائیں گے
Read Moreزیب غوری
بے حسی پر مری وہ خوش تھا کہ پتھر ہی تو ہے میں بھی چپ تھا کہ چلو سینے میں خنجر ہی تو ہے
Read Moreزیب غوری
چمک رہا ہے خیمۂ روشن دور ستارے سا دل کی کشتی تیر رہی ہے کھلے سمندر میں
Read Moreزیب غوری
یہ کم ہے کیا کہ مرے پاس بیٹھا رہتا ہے وہ جب تلک مرے دل کو دُکھا نہیں جاتا
Read Moreزیب غوری
میں پیمبر ترا نہیں لیکن مجھ سے بھی بات کر خدا میرے
Read Moreزیب غوری
میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا جانا ساری کیفیت ہے گزرتے موسم سی
Read More