سر میں سما گئی تھی ہوا کج نہاد کے ذرّوں نے بل نکال دیئے گرد باد کے بے احتجاج ظلم کو سہنا روا نہیں چپ رہ کے حوصلے نہ بڑھاؤ فساد کے اُن کے سوا کسی پہ بھروسہ نہ کیجیو وہ پَر تراش دیں گے ترے اعتماد کے ہم نے تعلقات کی قلمیں لگائی تھیں انکھوے یہ کیسے پھوٹ رہے ہیں عناد کے جتنے گھروندے تم نے بنائے تھے ریت پر پنجے گڑے ہیں ان پہ کسی دیو زاد کے
مظفر حنفی ۔۔۔ سر میں سما گئی تھی ہوا کج نہاد کے
