شور بھی ہے سناٹا بھی دل جیسی ہے دنیا بھی
Read MoreMonth: 2019 دسمبر
محسن اسرار
بہتی ہوئی ہر چیز نظر آتی ہے لیکن آتے ہوئے سیلاب دکھائی نہیں دیتے
Read Moreمحسن اسرار
میری طرح بے تاب دکھائی نہیں دیتے یاروں کو مرے خواب دکھائی نہیں دیتے
Read Moreلیاقت علی عاصم
دوستی ہو کہ دشمنی ہم سے گاہے گاہے مِلا کرے کوئی
Read Moreلیاقت علی عاصم
وصل کے خواب دیکھ لیتا ہوں ہجر میں اور کیا کرے کوئی
Read Moreلیاقت علی عاصم
کوئی اپنے سوا نہیں موجود اور ہے تو ہُوا کرے کوئی
Read Moreلیاقت علی عاصم
کچھ تو کم ہو یہ شورشِ دریا ڈوب جائے خدا کرے کوئی
Read Moreلیاقت علی عاصم
دار کا سامنا کیا سب نے یار کا سامنے کرے کوئی
Read Moreلیاقت علی عاصم
چاند پر جائے یا ستارے پر آدمی کا بھلا کرے کوئی
Read Moreلیاقت علی عاصم
چراغ بھی دسترس سے باہر ہے اور ہوا بھی عجیب ہوتا ہے نارسائی کا سلسلہ بھی
Read More