گناہ ۔۔۔ ن ۔ م ۔ راشد

گناہ ۔۔۔ آج پھر آ ہی گیا آج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیا دی مرے گھر پہ شکست آ کے مجھے! ہوش آیا تو میں دہلیز پر اُفتادہ تھا خاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزار پارہ پارہ تھے مری روح کے تار آج وہ آ ہی گیا! روزنِ در سے لرزتے ہوئے دیکھا میں نے خرم و شاد سرِ راہ اُسے جاتے ہوئے سالہا سال سے مسدود تھا یارانہ مرا اپنے ہی بادہ سے لبریز تھا پیمانہ مرا اُس کے لَوٹ آنے کا امکان نہ تھا…

Read More

احمد حسین مجاہد

میں یہاں آخری مسافر ہوں اک نظر دیکھ لوں سرائے کو

Read More

فضل گیلانی ۔۔۔۔۔۔ یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے

یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے میرے ہو جائیں یہ سارے جھرنے منظر آلودہ ہوا جاتا ہے کس نے دریا میں اُتارے جھرنے کسی امکان کا پہلو ہیں کوئی تری آواز، ہمارے جھرنے اتنی نمناک جو ہے خاک مری کس نے مجھ میں سے گزارے جھرنے مجھ میں تصویر ہوے آخرِ شب خامشی، پیڑ، ستارے، جھرنے ایک وادی ہے سرِ کوہِ سکوت اور وادی کے کنارے جھرنے دیکھو تو بہتے ہوے وقت کی رَو اب ہمارے ہیں تمہارے جھرنے کیا بتائوں میں انھیں، تو ہی بتا پوچھتے ہیں ترے بارے…

Read More

شہزاد نیر

میں تو خود پر بھی کفایت سے اُسے خرچ کروں وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص

Read More