عباس رضوی ۔۔۔ اس خرابے کو بہرحال فنا ہونا ہے

Read More

فضل گیلانی ۔۔۔۔۔۔ یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے

یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے میرے ہو جائیں یہ سارے جھرنے منظر آلودہ ہوا جاتا ہے کس نے دریا میں اُتارے جھرنے کسی امکان کا پہلو ہیں کوئی تری آواز، ہمارے جھرنے اتنی نمناک جو ہے خاک مری کس نے مجھ میں سے گزارے جھرنے مجھ میں تصویر ہوے آخرِ شب خامشی، پیڑ، ستارے، جھرنے ایک وادی ہے سرِ کوہِ سکوت اور وادی کے کنارے جھرنے دیکھو تو بہتے ہوے وقت کی رَو اب ہمارے ہیں تمہارے جھرنے کیا بتائوں میں انھیں، تو ہی بتا پوچھتے ہیں ترے بارے…

Read More

بانی ۔۔۔۔۔ پتّہ پتّہ بھرتے شجر پر ابر برستا دیکھو تم

پتّہ پتّہ بھرتے شجر پر ابر برستا دیکھو تم منظر کی خوش تعمیری کو لمحہ لمحہ دیکھو تم! مجھ کو اس دلچسپ سفر کی راہ نہیں کھوٹی کرنی میں عجلت میں نہیں ہوں، یارو! اہنا رستہ دیکھو تم آنکھ سے آنکھ نہ جوڑ کے دیکھو سوئے اُفق، اے ہم سفرو! لاکھوں رنگ نظر آئیں گے، تنہا تنہا دیکھو تم! آنکھیں چہرے پاؤں سبھی کچھ بکھرے پڑے ہیں رستے میں پیش روؤں پر کیا کچھ بیتی، جا کے تماشہ دیکھو تم کیسے لوگ تھے ٬ چاہتے کیا تھے کیوں وہ یہاں…

Read More