فضل گیلانی ۔۔۔۔۔۔ یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے

یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے میرے ہو جائیں یہ سارے جھرنے منظر آلودہ ہوا جاتا ہے کس نے دریا میں اُتارے جھرنے کسی امکان کا پہلو ہیں کوئی تری آواز، ہمارے جھرنے اتنی نمناک جو ہے خاک مری کس نے مجھ میں سے گزارے جھرنے مجھ میں تصویر ہوے آخرِ شب خامشی، پیڑ، ستارے، جھرنے ایک وادی ہے سرِ کوہِ سکوت اور وادی کے کنارے جھرنے دیکھو تو بہتے ہوے وقت کی رَو اب ہمارے ہیں تمہارے جھرنے کیا بتائوں میں انھیں، تو ہی بتا پوچھتے ہیں ترے بارے…

Read More

اندیشے ۔۔۔۔۔ کیفی اعظمی

اندیشے ۔۔۔۔۔۔ روح بے چین ہے اِک دل کی اذیّت کیا ہے دل ہی شعلہ ہے تو یہ سوزِ محبّت کیا ہے وہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہے رنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بُھلایا ہو گا ۔۔۔۔ وہ کہاں اور کہاں کاہشِ غم، سوزشِ جاں اُس کی رنگین نظر اور نقوشِ حرماں اُس کا احساسِ لطیف اور شکستِ ارماں طعنہ زن ایک زمانہ نظر آیا ہو گا ۔۔۔۔ جھک گئی ہو گی جواں سال اُمنگوں کی جبیں مٹ گئی ہو گی للک، ڈوب گیا…

Read More