محمد مختار علی

دَرد کے معجزے ہوتے ہیں لُغت سے آزاد میرؔ نے حسنِ معانی کی نمائش نہیں کی

Read More

فضل گیلانی ۔۔۔۔۔۔ یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے

یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے میرے ہو جائیں یہ سارے جھرنے منظر آلودہ ہوا جاتا ہے کس نے دریا میں اُتارے جھرنے کسی امکان کا پہلو ہیں کوئی تری آواز، ہمارے جھرنے اتنی نمناک جو ہے خاک مری کس نے مجھ میں سے گزارے جھرنے مجھ میں تصویر ہوے آخرِ شب خامشی، پیڑ، ستارے، جھرنے ایک وادی ہے سرِ کوہِ سکوت اور وادی کے کنارے جھرنے دیکھو تو بہتے ہوے وقت کی رَو اب ہمارے ہیں تمہارے جھرنے کیا بتائوں میں انھیں، تو ہی بتا پوچھتے ہیں ترے بارے…

Read More

عزیز قیسی ۔۔۔۔۔ آپ کو دیکھ کر، دیکھتا رہ گیا

آپ کو دیکھ کر، دیکھتا رہ گیا کیا کہوں اور کہنے کو کیا رہ گیا بات کیا ہے کہ سب غرقِ دریا ہوئے اک خدا رہ گیا، ناخدا رہ گیا سوچ کر آئو، کوئے تمنا ہے یہ جانِ من! جو یہاں رہ گیا، رہ گیا دل کے وحشت سرا سے خدا جانے کیوں سب گئے، ایک داغِ وفا رہ گیا اُن کی آنکھوں سے کیسے چھلکنے لگا میرے ہونٹوں پہ جو ماجرا رہ گیا ایسے بچھڑے سبھی رات کے موڑ پر آخری ہم سفر راستہ رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام:…

Read More

وسیم بریلوی ۔۔۔۔۔۔۔ آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا اُس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا رات مجرم تھی، دامن بچا لے گئی دن، گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا وہ مرے سامنے ہی گیا اور مَیں راستے کی طرح دیکھتا رہ گیا جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے اور مَیں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا آندھیوں کے اِرادے تو اچھے نہ تھا یہ دیا کیسے جلتا ہُوا رہ گیا اس کو کاندھوں پہ لے جا رہے ہیں وسیمؔ اور وہ جینے کا حق مانگتا رہ گیا

Read More