احمد حسین مجاہد ۔۔۔ لہو میں عکسِ دیرینہ کی جھلمل ڈل سے آتی ہے

لہو میں عکسِ دیرینہ کی جھلمل ڈل سے آتی ہے ہم اُس خوشبو میں رہتے ہیں جو حضرت بل سے آتی ہے کوئی آواز پیہم وقت کی اوجھل سے آتی ہے نویدِ صبحِ نصرت آنے والے کل سے آتی ہے نگہ دارِ اخوت ہیں جواں اُدھڑے ہوئے سینے یہ کیسی سرخ رو مٹی ہے جو مقتل سے آتی ہے نکل سکتے ہیں استصوابِ رائے سے کئی رستے عدو کو موت لیکن مسئلے کے حل سے آتی ہے مگر اقوامِ عالم کی گراں گوشی نہیں جاتی لہو کی چاپ ورنہ ہر…

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔ اردو ماہیا

اک خوف تھا گاؤں میں باندھ لیے گھنگھرو پھر میں نے پاؤں میں

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔ میں

مَیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ برس دو برس تک مرا نام ایلان کردی رہا ہے مگر اب مرے سینکڑوں نام ہیں میں فلسطین کا مصطفیٰ ہوں پشاور کا گُل شیر ہوں میں نے بڈگام میں جان دی تھی مری قبر بغداد میں ہے کہیں میں روہنگیا کہیں میں ہزارہ کہیں پنڈتوں میں گھرا محض اک آدمی ہوں پشاور کے اسکول میں جو عبارت مرے خوں سے لکھی گئی اس کے معنی کسی پر نہیں کھل سکے مجھ پہ کابل کی مسجد میں اس وقت حملہ ہوا جب میں سجدے میں تھا شام کی…

Read More

احمد حسین مجاہد

جب علی اکبر کو رخصت دی تو کہتے تھے حسین اب پسِ پردہ شبیہِ مصطفیٰ ہو جائے گی

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔ احمد حسین مجاہد

گناہگار ہوں، دہلیز پر بٹھا دیجے مگر حضور مری حاضری لگا دیجے جو مانگتے ہیں عطا کیجیے انھیں دنیا مہار ِ ناقہ مرے ہاتھ میں تھما دیجے کھڑا ہوں سر کو جھکائے میں سب سے آخر میں کسی سے یہ نہیں کہتا کہ راستہ دیجے

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔ ایک لا محدود 

ایک لا محدود  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کلائی پر بندھے اوقات ِ بے مصرف کے آلے کو تلائی کے تلے رکھا ہتھیلی گال کے نیچے کشادہ کی سرہانہ سر کے نیچے سے اٹھا کر سر پہ رکھا دونوں گھٹنے پیٹ سے جوڑے غم ِ دنیا کے دفتر کو سمیٹا راحت ِ محدود کا عادی بدن بستر پہ چھوڑا ایک لامحدود میں پہنچا جہاں ہر چیز ممکن ہے

Read More