وہ سمجھتا ہے اس کنائے کوپُل کی حاجت نہیں ہے سائے کومیں جو کہتا ہوں کچھ نہیں ہو گاآگ میں ڈال سب کی رائے کولے کے دو چسکیاں مرے کپ سےشہد کر دے گا پھیکی چائے کوکھل کے دیتا نہیں وہ داد کبھیآگ لگ جائے اس کی ” ہائے ” کوتجھ کو دیکھا تو خود بدل لیں گےصائب الرائے اپنی رائے کومیں یہاں آخری مسافر ہوںاک نظر دیکھ لوں سرائے کو
Read MoreTag: ahmad hussain mujahid
احمد حسین مجاہد ۔۔۔آصف ثاقب(پاکستانی ادب کے معمار)
پاکستانی ادب کے معمار کے سلسلہ میں ایک اور خوبصورت اضافہ جناب احمد حسین مجاہد کی نئی کتاب ” آصف ثاقب، شخصیت و فن ” اکادمی ادبیات پاکستان سے شائع ہو گئی ہے
Read Moreاحمد حسین مجاہد … اب میں دیوانہ ٔ دنیا ہوں نہ دیوانہ ٔ خواب
اب میں دیوانہ ٔ دنیا ہوں نہ دیوانہ ٔ خواب میرے ذمے ہے نگہبانی ِ ویرانہ ٔ خواب جس پہ اترا ہی نہیں غم کا صحیفہ کوئی مجھ سے وہ خاک سنے گا مرا افسانہ ٔ خواب یہ بھی ممکن ہے کرے حسب ِ تقاضا ہی سلوک مجھ سے شائستہ ٔ وحشت سے وہ بے گانہ ٔ خواب دو مقامات ہیں زیبائی ِ عالم کے کفیل اک تری بزم ہے اک میرا پری خانہ ٔ خواب یہ ترے ہونٹ ، یہ رخسار ، یہ آنکھیں ، یہ جبیں عرصہ ٔ…
Read Moreاحمد حسین مجاہد ۔۔۔۔۔۔ وہ سمجھتا ہے اِس کنائے کو
وہ سمجھتا ہے اِس کنائے کو پُل کی حاجت نہیں ہے سائے کو میں جو کہتا ہوں کچھ نہیں ہو گا آگ میں ڈال سب کی رائے کو لے کے دو چسکیاں مرے کپ سے شہد کر دے گا پھیکی چائے کو کھل کے دیتا نہیں وہ داد کبھی آگ لگ جائے اُس کی ’’ہائے ‘‘کو تجھ کو دیکھا تو خود بدل لیں گے صائب الرائے اپنی رائے کو میں یہاں آخری مسافر ہوں اک نظر دیکھ لوں سرائے کو
Read Moreاحمد حسین مجاہد
میں یہاں آخری مسافر ہوں اک نظر دیکھ لوں سرائے کو
Read Moreاحمد حسین مجاہد …… مٹی کا اک غبار جو سوئے فلک گیا
مٹی کا اک غبار جو سوئے فلک گیا اک بار تو خود اپنی طرف میرا شک گیا سایہ تھا اُس پہ وصل کی خواہش کے خوف کا میں نے چھوا تو غنچہ ٔ نو رَس چٹک گیا دیتی وہ کیا جواب مرے اشتعال کا بس یہ ہوا کہ شانے پہ آنچل ڈھلک گیا چاروں طرف سے خون کے چشمے ابل پڑے سایہ مرے وجود کے اندر سرک گیا میری بھی تھوڑی حوصلہ افزائی ہو گئی جاتے ہوئے وہ میرا بھی شانہ تھپک گیا احمدؔ میں پہلے عشق کو سمجھا تھا…
Read Moreاحمد حسین مجاہد ۔۔۔۔۔۔ جنوں میں یار سے آگے قدم نہ پڑ جائے
جنوں میں یار سے آگے قدم نہ پڑ جائے یہ عمر بھر کی ریاضت بھی کم نہ پڑ جائے کچھ احتیاط ! مری آگ تاپنے والو کسی کی آنکھ میں شعلے کا نم نہ پڑ جائے مجھے یہ ڈر ہے مری رائگاں دعاؤں سے تمھاری تیغ ِ تغافل میں خم نہ پڑ جائے بہ فیض ِ عشق مجھے اپنا غم نہیں، لیکن یہ غم ہے، اُس کو مذاق ِ ستم نہ پڑ جائے یہ شہد و شعر دھرے کے دھرے نہ رہ جائیں کہیں اسے کوئی کار ِ اہم نہ…
Read More