اچھا ہے کہ دیوار کے سائے سے رہیں دور پڑ جائے نہ دیوار پہ افتاد ہماری
Read MoreMonth: 2019 دسمبر
کاشف حسین غائر
کچھ ہیں بھی اگر ہم تو گرفتار ہیں اپنے زنجیر نظر آتی ہے آزاد ہماری
Read Moreکاشف حسین غائر
ہر شام دلاتی ہے اُسے یاد ہماری اتنی تو ہَوا کرتی ہے امداد ہماری
Read Moreکاشف حسین غائر
ایسے کھلتا تھا کہاں رنگِ جہاں تیری تصویر بنانے سے کھلا
Read Moreکاشف حسین غائر
کس کو معلوم ہے یہ بے خبری کس خبر سے فرار ہے اپنا
Read Moreحبیب الرحمن مشتاق
میری بستی میں جو سیلاب کا ریلہ آیا بہہ گیا سایہ مرے صحن کی دیوار سمیت
Read Moreحبیب الرحمان مشتاق
دیکھنے والے کی جاگیر بھی ہو سکتے ہیں خواب شرمندۂ تعبیر بھی ہو سکتے ہیں
Read Moreحبیب الرحمن مشتاق
میری سوچوں کی سبز بارش میں بھیگنے کو نکل گئے جگنو
Read Moreحبیب الرحمن مشتاق
عمرِ رفتہ کی رہگزاروں پر ایک تیرا نشان باقی ہے
Read Moreخورشید رضوی
دُنیا رہی خوابیدہ، خورشیدؔ نے شب بھر میں پچھم سے شفق لا کر پورب میں بچھا ڈالی
Read More