تھام کر ہاتھ ایک ساے کاہو گیا ہوں کسی پراے کا مجھ سے خالی کرا لیا گیا ہےہر نفس تھا مکاں کراے کا حسن اور عشق احترام کریںکاش اک دوسرے کی راے کا پار کر دیکھا پاٹ میں نے بھیعشق کی ایک آبناے کا دشت میں رات ہو گئ ہے ظفرپوچھتا ہوں پتا سراے کا
Read MoreMonth: 2021 اپریل
ابرار احمد ۔۔۔ مجھ کو معلوم ہے اب کوئی نہیں ہے میرا
مجھ کو معلوم ہے اب کوئی نہیں ہے میرا جہاں کوئی بھی نہیں کوئی وہیں ہے میرا وقت ہی کب ہے کہ ہر در پہ صدا دی جائے جانے کس اوٹ میں اب پردہ نشیں ہے میرا مجھے تسلیم ہے دنیا میں خوشی کم تو نہیں جینے دیتا جو نہیں قلبِ حزیں ہے میرا تُو کہ ہے صاحبِ اسباب تجھے ہو گی خبر ورنہ اتنا سا تو سب اپنے تئیں ہے میرا اور اس رنج سے وحشت بھی نہیں ہے مجھ کو تُو کہ میرا ہی سہی پھر بھی نہیں…
Read More