مضبوط بندش اور روایت کے تخلیقی تسلسل کے ممتاز شاعر جناب افتخار عارف کا تازہ شعری مجموعہ "باغِ گلِ سرخ” موصول ہوا۔افتخار عارف اپنے فکری و تہذیبی تشخص کی کلیت میں جیتے اور شعر کہتے ہیں۔ان کے کلام اور ان کی شخصیت میں کہیں دوئی کا شائبہ نہیں ہوتا۔ قدرت نے انہیں فکر و احساس اور زاویۂ نگاہ کے ایسے توازن سے نواز رکھا ہے کہ انہیں کسی پہلو سے معذرت خواہی کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ وہ ایک صاحبِ واردات شاعر ہیں اور حضرت علی رض کے اس…
Read MoreMonth: 2021 اپریل
کرشن موہن (کرشن لال) ۔۔۔ طنز
طنز ۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم چاند پہ جا پہنچے ہیں اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ لاکھوں انساں اپنی دھرتی پہ ہیں بھوکے بے حال یہ جگر دوز حقیقت کہ ہے دھرتی کا ملال اُس دل افروز حقیقت پر کیا اک حزیں طنز نہیں
Read Moreڈی راج کنول ۔۔۔ ویسراج شرما
کل صبح ایک شاخ پہ کچھ ادھ کھلے گلاب تھوڑا سا مسکرا کے بہت سوچتے رہے
Read Moreنسیم عباسی… فائز میں اس مقام پہ یوں ہی نہیں ہوا
فائز میں اس مقام پہ یوں ہی نہیں ہوا دنیا کو دیکھ بھال کے گوشہ نشیں ہوا تجھ سے بچھڑ کے صورتِ احوال اور تھی میں ٹھیک ٹھاک بعد میں جا کر کہیں ہوا دراصل اپنا بویا ہوا کاٹتے ہیں لوگ روئے زمیں کا فیصلہ زیرِ زمیں ہوا اُس کو عدالتوں کے سوا جانتے ہیں سب مجرم کا جرم آج بھی ثابت نہیں ہوا یہ دلکشی بصورتِ دیگر نہیں نصیب رعنائیِ خیال سے منظر حسیں ہوا
Read Moreشباب دہلوی ( وید پرکاش گپتا)
بچتے، کتراتے کُل زمانے سے آ بھی جائو کسی بہانے سے
Read Moreیوسف خالد
خوش گمانی سے بد گمانی تکان کہی کی ہزار شکلیں ہیں
Read Moreسحر تاب رومانی … دشت کے آس پاس کاٹی ہے
دشت کے آس پاس کاٹی ہےزندگی بد حواس کاٹی ہے پھر مجھے کر دیا ہے اُس نے ردپھر مری التماس کاٹی ہے آپ نے بات ہی نہیں کاٹیاک زبانِ سپاس کاٹی ہے یہ جو لہجہ گداز ہے میراتلخیوں سے مٹھاس کاٹی ہے تیرے دریا یونہی نہیں سیرابمیرے صحرا نے پیاس کاٹی ہے بات کرتا ہے اِس طرح جیسےعمر بھر ہم نے گھاس کاٹی ہے ہم نے کچھ بھی نہیں کیا ہے سحرصرف اپنی اساس کاٹی ہے
Read Moreشفیق سلیمی انتقال فرما گئے
اردو غزل کے معروف شاعر شفیق سلیمی آج (2 اپریل 2021) لاہور میں وفات پا گئے۔ بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے
Read Moreشاہین عباس ۔۔۔ امانت سولہ آنے
شہر میں کچھ بن رہا تھا۔ کیا بن رہا تھا،یہ اندازہ ذرامشکل ہی سے ہوپاتا۔ صورت کچھ یوں تھی کہ اندازہ لگانے والے فیتے اور فرلانگ اپنی قدر کھو بیٹھے تھے۔فیتے، لوہے کے صندوقوں میں پڑے تھے اور صندوقوں کی پیشانیوں پر بڑے بڑے تالے خالی خولی کھڑاک کے لیے ڈال د یے گئے تھے۔ چلتی ہوا کے ساتھ ساتھ بے طرح کا کھٹکاکھڑاک،جیسے لوہا،لوہے سے بجتا ہو یا بھڑتا ہو۔ دونوں آوازوں میں فرق کرنا ممکن نہیں تھا۔ رہے فرلانگ،تو وہ زمین کے اندر پرت،دو پرت گھنے،گھنیرے پردوں میں…
Read Moreاسحاق وردگ
مرا ہونا تو بنتا ہی نہیں ہےدعاؤں کی بدولت معتبر ہوں
Read More