اسحاق وردگ

حیرت سے نئے لوگ اسے دیکھ رہے ہیںاک شخص محبت کی زباں بول رہا ہے

Read More

اسحاق وردگ

ہمارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا وہ اک بندہ خدا ہونے سے پہلے

Read More

اسحاق وردگ

تمھیں میری ضرورت بھی پڑے گی پرانے شہر کا نقشہ ہے مجھ میں

Read More

اسحاق وردگ ۔۔۔ وہ جس میں وقت کی دریا دلی نہیں آتی

وہ جس میں وقت کی دریا دلی نہیں آتی تو میرے ہاتھ پہ ایسی گھڑی نہیں آتی سنا رہا ہے لطائف وہ بادشاہوں کو اُداس شخص، جسے خود ہنسی نہیں آتی دکانِ خواب سجائے ہوئے ملے ہم کو وہ لوگ‘ شب کو جنہیں نیند بھی نہیں آتی میں آٹھ سال سے ان وادیوں میں رہتا ہوں یہ کوہِ قاف ہے لیکن پری نہیں آتی فلک کے رخ پہ دریچے بنانے پڑتے ہیں مکانِ ذات میں جب روشنی نہیں آتی کلامِ میر سناتے رہو ترنم سے ہماری آنکھ میں جب تک…

Read More

اسحاق وردگ ۔۔۔ پسِ غبار مجھے اس طرف کو جانے دے

پسِ غبار مجھے اس طرف کو جانے دے نگاہ دار! مجھے اس طرف کو جانے دے فلک کے خاص رسالے میں کاش چھپ جائے یہ اشتہار ’’مجھے اس طرف کو جانے دے‘‘ طلسمِ وقت کا زندان توڑنا ہے مجھے رہِ فرار! مجھے اس طرف کو جانے دے گلِ مراد خزاں سے بکھر نہ جائے کہیں پئے بہار مجھے اس طرف کو جانے دے ہے میرا ذوقِ تجسس کہ اس طرف کیا ہے؟ بس ایک بار مجھے اس طرف کو جانے دے میں کائنات کی حد سے نکلنا چاہتا ہوں فسونِ…

Read More

اسحاق وردگ ۔۔۔ تیرا دربار ترا جاہ و حشم اور طرف

تیرا دربار ترا جاہ و حشم اور طرف اور درویش کا اٹھتا ہے قدم اور طرف وقت نے گھیر کے اب پھینک دیا اس جانب جو سمجھتے تھے کہ ہے راہِ عدم اور طرف شہر کا شہر بہکتا ہوا جاتا ہے کہاں؟ دھیان ہے اور طرف اور قدم اور طرف منطقی ربط نہیں ذہن کے کرداروں میں دل نے رکھا ہے کہانی کا بھرم اور طرف لفظ معنی کے طلسمات سے خالی نکلے جب زمانے نے بڑھایا ہے قلم اور طرف آئنہ خاک کا دولخت نظر آتا ہے دل کسی…

Read More

اسحاق وردگ ۔۔۔ رات ہوتے ہی چل پڑوں گا میں

رات ہوتے ہی چل پڑوں گا میں شہر میں شام تک رہوں گا میں نئے چہروں کے ساتھ خوابوں میں خود سے ہر موڑ پر ملوں گا میں زندہ رہنے کی خاص خواہش میں عشق کی آگ میں جلوں گا میں میں اگر وجد سے نکل آیا راز کی بات ہی کروں گا میں مجھ سے میں نے کبھی نہیں ملنا راستہ دیکھتا رہوں گا میں شہرِ دلی! تری فضاؤں میں میر صاحب سے مل سکوں گا میں؟ کیا کبھی ذات کی خموشی میں اپنی آواز کو سنوں گا میں…

Read More

اسحاق وردگ ۔۔۔ رات ہوتے ہی چل پڑوں گا میں

غزل (جنم دن 24 اپریل کے ہنگام پر)رات ہوتے ہی چل پڑوں گا میںشہر میں شام تک رہوں گا میںنئے چہروں کے ساتھ خوابوں میںخود سے ہر موڑ پر ملوں گا میںزندہ رہنے کی خاص خواہش میںعشق کی آگ میں جلوں گا میںمیں اگر وجد سے نکل آیاراز کی بات ہی کروں گا میںمجھ سے میں نے کبھی نہیں ملناراستہ دیکھتا رہوں گا میںشہرِ دلی! تری فضائوں میںمیر صاحب سے مل سکوں گا میں؟کیا کبھی ذات کی خموشی میںاپنی آواز کو سنوں گا میںاک نجومی نے کل بتایا ہےبے وفائی سے…

Read More

اسحاق وردگ

دیارِ خواب میں غالب کے ساتھ دن گزرا تو رات میر کے حجرے میں ۔۔۔شام داغ کے ساتھ

Read More