بیر کی آگ میں جل بھن کے وہ مر جائے گا دوستی کے نہ جو دریا میں اتر جائے گا چھوڑ دوں خواب تو پھر زیست سفر چہ معنی ساتھ میرے یہ مرا زادِ سفر جائے گا آج بھی کل کی طرح جس کو نہ مزدوری ملی سوچتا میں ہوں کہ کس منہ سے وہ گھر جائے گا کتنے فرقوں میں گروہوں میں بٹا ہے انساں بٹتے بٹتے وہ خدا جانے کدھر جائے گا شہرِ نفرت سے وہ اک روز کرے گا ہجرت اور سب خواب لیے پریم نگر جائے…
Read MoreMonth: 2022 نومبر
اقبال سروبہ ۔۔۔ دیکھ کے ہر سو خونی منظر میری تو پتھرائی آنکھ
دیکھ کے ہر سو خونی منظر میری تو پتھرائی آنکھ اس کے پس منظر میں جھانکو کس کس کی گہنائی آنکھ بینا ، ہی نابینا ہوں جب پھر منزل پر پہنچے کون زرداروں کی دیکھ کے حالت میری تو شرمائی آنکھ دیکھا ہے فقدان حیا کا جب سے خونی رشتوں میں یکسر ہی گرداب کی صورت پھر میری چکرائی آنکھ جانے کس گردش نے اس کو حال سے ہے بے حال کیا دیکھ کے اس کا اترا چہرہ میری تو بھر آئی آنکھ اس کے سوا تو اپنے پاس بھی…
Read Moreرضوان احمد …. پروین شاکر: کھوئے ہوؤں کی جستجو کرنے والی شاعرہ
پروین شاکراردو شاعری میں ایک تتلی کی طرح رونما ہوئیں اور قوس قزح کے رنگ بکھیر کرفضا میں غائب ہو گئیں۔ بات 31 سال پرانی ہو گئی ہے۔ مگر مجھے اب تک یاد ہے اس پر وقت کی دھول جم نہیں سکی ہے۔ 1977ء میں نوخیز پروین شاکر شنکر شاد ہند و پاک مشاعرے میں دہلی تشریف لائی تھیں۔ مشاعرے کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپئی نے اپنی جذباتی تقریر میں کہا تھا کہ ابھی مجھے یہاں تشریف لائے پاکستان کے ایک شاعر ( سرور بارہ بنکوی…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ ٹھوکر لگی تو خود ہی سمجھ آ گئی ہمیں
ٹھوکر لگی تو خود ہی سمجھ آ گئی ہمیں اب ایک بوجھ لگتی ہے اپنی خودی ہمیں چلنے میں آ رہا تھا مزا آبلوں کے ساتھ منزل خود آ گئی کوئی عجلت نہ تھی ہمیں دِل پر ہمارا بس ہے نہ آنکھوں پہ اختیار کب تک ہر ایک بات پہ آئے ہنسی ہمیں پوچھا کسی نے نام نہ دَر وَا ہُوا کوئی پہچاننے لگی ہے تمھاری گلی ہمیں اپنوں کے وار جھیلنے کیا غیر آتے ہیں یلغار اپنے خون کی سہنی پڑی ہمیں پینے کے بعد ہم سے کہا پارساؤں…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ کئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دلِ زار تھا
کئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دلِ زار تھا کبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا دمِ صبح بزمِ خوشِ جہاں شب غم سے کم نہ تھے مہرباں کہ چراغ تھا سو تو دُود تھا جو پتنگ تھا سو غبار تھا دلِ خستہ جو لہو ہوگیا تو بھلا ہوا کہ کہاں تلک کبھوسوزِ سینہ سے داغ تھاکبھو درد و غم سے فگار تھا دلِ مضطرب سے گزرگئی شبِ وصل اپنی ہی فکر میں نہ دماغ تھا نہ فراغ تھا نہ شکیب تھا نہ قرار…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔۔ گل و بلبل بہار میں دیکھا
گل و بلبل بہار میں دیکھا ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا جل گیا دل سفید ہیں آنکھیں یہ تو کچھ انتظار میں دیکھا آبلے کا بھی ہونا دامن گیر تیرے کوچے کے خار میں دیکھا جن بلاؤں کو میر سنتے تھے اُن کو اس روزگار میں دیکھا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔۔ دل سے شوقِ رخِ نکو نہ گیا
دل سے شوقِ رخِ نکو نہ گیا جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا ہر قدم پرتھی اس کی منزل لیک سر سے سودائے جستجو نہ گیا سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں لیکن اے داغ دل سے تو نہ گیا دل میں کتنے مسوّدے تھے ولے ایک پیش اُس کے روبرو نہ گیا سبحہ گردن ہی میرؔ ہم تو رہے دستِ کوتاہ تاسبُو نہ گیا
Read Moreمنظور ثاقب ۔۔۔ اپنے باطن کو یوں سنوارا کر
اپنے باطن کو یوں سنوارا کر دل میں اس شوخ کو اتارا کر چند لمحے کبھی تو خلوت میں کٹ کے ماحول سے گزارا کر سیکڑوں لوگ دیکھتے ہیں تجھے کبھی اپنی نظر اتارا کر پھونک وہم و گمان کی دنیا اپنی دانست کو شرارا کر بات جب بھی چلے محبت کی پھر نہ تکلیفِ استخارا کر
Read Moreتعارف و احوال سلطان العاشقین حضرت خواجہ غلام فریدؒ …. سعدیہ وحید (خان پور)
تعارف و احوال سلطان العاشقین حضرت خواجہ غلام فریدؒ (سعدیہ وحید ) • خواجہ غلام فریدؒ کی پیدائش 26ذیقعد 1261ھ بروز منگل ہوئی ۔ • آپ کی پیدائش ریاست بہاول پور کے قصبے چاچڑاں شریف تحصیل خان پور میں ہوئی ۔ • آپ کے والد کا اسم گرامی خواجہ خدابخش المعروف محبوب الہٰی تھا ۔ • آپ کے دادا کانام خواجہ احمد علی اور پرداد کا نام حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد تھا ۔ • والدہ کے انتقال کے وقت آپ کی عمر چار برس اور والد کے انتقال کے…
Read More