میں نے ساری عمر کسی مندر میں قدم نہیں رکھا لیکن جب سے تیری دعا میں میرا نام شریک ہوا ہے تیرے ہونٹوں کی جنبش پر میرے اندر کی داسی کے اجلے تن میں گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں!
Read MoreDay: اکتوبر 5، 2026
پروین شاکر ۔۔۔ نک نیم
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ٹھیک ہی کہتے ہو! کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں گڑیا ہی لگتی ہوں جو پہنا دو مجھ پہ سجے گا میرا کوئی رنگ نہیں جس بچے کے ہاتھ تھما دو میری کسی سے جنگ نہیں سوچتی جاگتی آنکھیں میری جب چاہے بینائی لے لو کوک بھرو اور باتیں سن لو یا میری گویائی لے لو مانگ بھرو سیندور لگاؤ پیار کرو آنکھوں میں بساؤ اور پھر جب دل بھر جائے تو دل سے اٹھا کے طاق پہ رکھ دو تم مجھ کو گڑیا…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ جدائی کی پہلی رات
آنکھ بوجھل ہے مگر نیند نہیں آتی ہے میری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیں کسی کروٹ بھی مجھے چین نہیں پڑتا ہے سرد پڑتی ہوئی رات مانگنے آئی ہے پھر مجھ سے ترے نرم بدن کی گرمی اور دریچوں سے جھجکتی ہوئی آہستہ ہوا کھوجتی ہے مرے غم خانے میں تیری سانسوں کی گلابی خوشبو! میرا بستر ہی نہیں دل بھی بہت خالی ہے اک خلا ہے کہ مری روح میں دہشت کی طرح اُترا ہے تیرا ننھا سا وجود کیسے اس نے مجھے بھر رکھا تھا ترے…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ اوتھیلو
اپنے فون پہ اپنا نمبر بار بار ڈائل کرتی ہوں سوچ رہی ہوں کب تک اس کا ٹیلیفون انگیج رہے گا دل کڑھتا ہے اتنی اتنی دیر تلک وہ کس سے باتیں کرتا ہے!
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ ڈیوٹی
جان مجھے افسوس ہے تم سے ملنے شاید اس ہفتے بھی نہ آ سکوں گا بڑی اہم مجبوری ہے جان تمہاری مجبوری کو اب تو میں بھی سمجھنے لگی ہوں شاید اس ہفتے بھی تمہارے چیف کی بیوی تنہا ہوگی
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ فبأیّ آلاء ربکما تکذبٰن
دل آزاری بھی اک فن ہے اور کچھ لوگ تو ساری زندگی اسی کی روٹی کھاتے ہیں چاہے ان کا برج کوئی ہو عقرب ہی لگتے ہیں تیسرے درجے کے پیلے اخباروں پر یہ اپنی یرقانی سوچوں سے اور بھی زردی ملتے رہتے ہیں مالا باری کیبن ہوں یا پانچ ستارہ ہوٹل کہیں بھی قے کرنے سے باز نہیں آتے اوپر سے اس عمل کو فقرے بازی کہتے ہیں جس کا پہلا نشانہ عموما بل کو ادا کرنے والا ساتھی ہوتا ہے! اپنے اپنے کنوئیں کو بحر اعظم کہنے اور…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ واہمہ
تمہارا کہنا ہے تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو تمہاری چاہت وصال کی آخری حدوں تک مرے فقط میرے نام ہوگی مجھے یقیں ہے مجھے یقیں ہے مگر قسم کھانے والے لڑکے! تمہاری آنکھوں میں ایک تِل ہے!
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ وہ باغ میں میرا منتظر تھا
وہ باغ میں میرا منتظر تھا اور چاند طلوع ہو رہا تھا زلفِ شبِ وصل کھل رہی تھی خوشبو سانسوں میں گھل رہی تھی آئی تھی میں اپنے پی سے ملنے جیسے کوئی گل ہوا سے کھلنے اک عمر کے بعد میں ہنسی تھی خود پر کتنی توجہ دی تھی! پہنا گہرا بسنتی جوڑا اور عطر سہاگ میں بسایا آئینے میں خود کو پھر کئی بار اس کی نظروں سے میں نے دیکھا صندل سے چمک رہا تھا ماتھا چندن سے بدن مہک رہا تھا ہونٹوں پہ بہت شریر لالی…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ ایک دوست کے نام
لڑکی! یہ لمحے بادل ہیں گزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گے ان کے لمس کو پیتی جا قطرہ قطرہ بھیگتی جا بھیگتی جا تو جب تک ان میں نم ہے اور ترے اندر کی مٹی پیاسی ہے مجھ سے پوچھ کہ بارش کو واپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہوا بال سکھانے کے موسم ان پڑھ ہوتے ہیں!
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ چاند رات
گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھا چاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھا فضا میں کیٹسؔ کے لہجے کی نرماہٹ تھی موسم اپنے رنگ میں فیضؔ کا مصرعہ تھا دعا کے بے آواز الوہی لمحوں میں وہ لمحہ بھی کتنا دل کش لمحہ تھا ہاتھ اٹھا کر جب آنکھوں ہی آنکھوں میں اس نے مجھ کو اپنے رب سے مانگا تھا پھر میرے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر کتنے پیار سے میرا ماتھا چوما تھا! ہوا! کچھ آج کی شب کا بھی احوال سنا…
Read More