بے حسی پر مری وہ خوش تھا کہ پتھر ہی تو ہے میں بھی چپ تھا کہ چلو سینے میں خنجر ہی تو ہے
Read MoreDay: اکتوبر 9، 2026
زیب غوری
چمک رہا ہے خیمۂ روشن دور ستارے سا دل کی کشتی تیر رہی ہے کھلے سمندر میں
Read Moreزیب غوری
یہ کم ہے کیا کہ مرے پاس بیٹھا رہتا ہے وہ جب تلک مرے دل کو دُکھا نہیں جاتا
Read Moreزیب غوری
میں پیمبر ترا نہیں لیکن مجھ سے بھی بات کر خدا میرے
Read Moreزیب غوری
میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا جانا ساری کیفیت ہے گزرتے موسم سی
Read More