الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ
Read MoreDay: اکتوبر 9، 2026
زیب غوری
نہ جانے کیا ہے کہ جب بھی میں اس کو دیکھتا ہوں تو کوئی اور مرے رو بہ رو نکلتا ہے
Read Moreزیب غوری
میں لاکھ اسے تازہ رکھوں دل کے لہو سے لیکن تری تصویر خیالی ہی رہے گی
Read Moreزیب غوری
میں تو چاک پہ کوزہ گر کے ہاتھ کی مٹی ہوں اب یہ مٹی دیکھ کھلونا کیسے بنتی ہے
Read Moreزیب غوری
ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی دل کے بجھنے سے دنیا تاریک نہیں ہوتی
Read Moreزیب غوری
ایک جھونکا ہوا کا آیا زیبؔ اور پھر میں غبار بھی نہ رہا
Read Moreزیب غوری
چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں
Read Moreزیب غوری
کچھ دور تک تو چمکی تھی میرے لہو کی دھار پھر رات اپنے ساتھ بہا لے گئی مجھے
Read Moreزیب غوری
یہ ڈوبتی ہوئی کیا شے ہے تیری آنکھوں میں ترے لبوں پہ جو روشن ہے اس کا نام ہے کیا
Read Moreزیب غوری
کھلی چھتوں سے چاندنی راتیں کترا جائیں گی کچھ ہم بھی تنہائی کے عادی ہو جائیں گے
Read More