اگلا جنم
۔۔۔۔۔۔
روایتوں کی قید میں
آنکھ کھلی
نہ دل اپنے بس میں تھا
نہ جسم پہ کوئی دسترس
خواب
تعبیروں کے تعاقب میں
جنگل جنگل
اُلجھے رہے
خواہشیں
موسموں کی طرح
بیت گئیں
اور زندگی
اگلے جنم پر
تکیہ کیے گزر گئی
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ بلاوا
میں نے ساری عمر کسی مندر میں قدم نہیں رکھا لیکن جب سے تیری دعا میں... -
پروین شاکر ۔۔۔ نک نیم
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ٹھیک ہی کہتے ہو! کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں... -
پروین شاکر ۔۔۔ جدائی کی پہلی رات
آنکھ بوجھل ہے مگر نیند نہیں آتی ہے میری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیں...
