خاور اعجاز ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم

گزریں گے ہر مقام سے مہتاب تھام کے
جلتے ہیں جن کے دل میں چراغ اُنؐ کے نام کے

وردِ زباں ہے اسمِ مبارک حضورؐ کا
موسم بدل گئے ہیں مِرے صبح و شام کے

کھُلتی گئیں زمان و مکاں کی بھی سلوٹیں
فیضان ہیں اُنہیؐ کے یہ حسنِ کلام کے

سارے گھروں میں ایک وہ گھر ہے رسولؐ کا
سیکھا زمانہ جس سے ہنر احترام کے

ذرّوں سے پھوٹتے ہیں : مہک ، رنگ ، روشنی
کیا سلسلے ہیں گنبد و دیوار و بام کے

شہرِ مدینہ مرجعِ عالم ہے اِس لیے
رستے نکل رہے ہیں یہاں سے دوام کے

دو نیم ہو گیا تو اطاعت کے باب میں
رتبے دوچند ہو گئے ماہِ تمام کے
صحرائے جاں میں پھول سے کھِلتے ہیں جب بھی مَیں
نذرانے بھیجتا ہُوں درود و سلام کے

ربِ کریم کوئی تسّلی ہمارے نام
ہم بھی کھڑے ہیں روضے کی جالی کو تھام کے

نکلے گماں ، گناہ ، گرانباریوں سے ہم
یہ معجزے محبتِ خیر الانامؐ کے !

آئی سمجھ میں ذاتِ خدا اُنؐ کی ذات سے
معنی بدل گئے وہؐ سجود و قیام کے

فکرِ سخن کچھ اور ہو سرگرمِ جستجو
لائق نہیں زمین یہ گردوں مقام کے

Related posts

Leave a Comment