ہجر
۔۔۔
ہجرتوں کے موسم میں
چاہتوں کی اَن بَن میں
یاد کے دریچوں سے
اک ترے تصور کا
واہمہ سا ہوتا ہے
اور اِسی تصور میں
خواب ٹُوت جاتا ہے
خواب کے بکھرنے سے
خوش گمان لمحوں کا
مان ٹُوٹ جاتا ہے
اس بھرم کے رکھنے کو
زندگی کی پلکوں پر
آنسوؤںکی برکھا جب
گیت گنگنائے تو
صبح ہو ہی جاتی ہے
رات کٹ ہی جاتی ہے۔۔۔!
Related posts
-
گلزار بخاری ۔۔۔ اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد
اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد ختم ہوتا نہیں سورج کا سفر شام... -
محمد علوی ۔۔۔ اب کے برسات میں پانی آئے
اب کے برسات میں پانی آئے خشک دریا میں روانی آئے ہر گھٹا کالی ہو کاجل... -
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے
اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے تیرا عاشق، انجمن ہی کیوں نہ...
