ہجر
۔۔۔
ہجرتوں کے موسم میں
چاہتوں کی اَن بَن میں
یاد کے دریچوں سے
اک ترے تصور کا
واہمہ سا ہوتا ہے
اور اِسی تصور میں
خواب ٹُوت جاتا ہے
خواب کے بکھرنے سے
خوش گمان لمحوں کا
مان ٹُوٹ جاتا ہے
اس بھرم کے رکھنے کو
زندگی کی پلکوں پر
آنسوؤںکی برکھا جب
گیت گنگنائے تو
صبح ہو ہی جاتی ہے
رات کٹ ہی جاتی ہے۔۔۔!
Related posts
-
بسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں... -
بسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ... -
حفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں...
