Tag: جمیل یوسف
جمیل یوسف ۔۔۔ قریہ خواب سے تعلق ہے
جمیل یوسف ۔۔۔ یہ مرے عشق کی شریعت ہے
یہ مرے عشق کی شریعت ہے آپ کو دیکھنا عبادت ہے خالقِ خشک و تر کا عاشق ہوں ہر حسیں چیز سے محبت ہے میں ہر انساں سے پیار کرتا ہوں یہ ہی میرے نبیؐ کی سُنّت ہے ہم فقیروں کے واسطے تیرا سامنے آنا بھی سخاوت ہے یہ جو میں ایسے شعر کہتا ہوں یہ مرے عشق کی بدولت ہے اے پری چہرہ! تجھ کو کیا معلوم تیرے جلوئوں میں کیا اشارت ہے اہلِ دنیا کو کیا بتائوں ، تُو استعارہ ہے یا علامت ہے آپ کو دیکھتے ہیں…
Read Moreجمیل یوسف ۔۔۔ عمران خان
یہ اک ذرّہ جو چمکا ہے ، ستارہ ہو بھی سکتا ہے ہمارے روزِ روشن کا اشارہ ہو بھی سکتا ہے یہ ممکن ہے ہمیں موجِ بلا کے پار لے جائے یہ اک طوفاں جو اُٹھا ہے کنارا ہو بھی سکتا ہے عجب کیا ڈوبنے والے کنارے پر پہنچ جائیں جسے تِنکا سمجھتے ہیں ، سہارا ہو بھی سکتا ہے کبھی ہم نے جو سب کو ورطۂ حیرت میں ڈالا تھا وہی اک معجزہ اب کے دوبارہ ہو بھی سکتا ہے وہ منظر روشنی کا ، جو شبِ ظلمت سے…
Read Moreجمیل یوسف ۔۔۔ اک انقلاب مری خواہشوں سے پیدا ہو
(یوم آزادی کے تناظر میں) اک انقلاب مری خواہشوں سے پیدا ہو اک آفتاب ، مرے رتجگوں سے پیدا ہو ہوائے شوق کسی دن تو اس طرح سے چل گُلِ مراد ، مرے آنگنوں سے پیدا ہو دیارِ شام سے گزروں تو وہ مقام آئے تری صدا کا گماں ، آہٹوں سے پیدا ہو مرے نگار اک ایسی شبِ وصال آئے ترا وجود ، مری دھڑکنوں سے پیدا ہو میں اس کی موج میں ڈوبوں تو پھر اُبھر نہ سکوں وہ لہر بھی کبھی تیری تہوں سے پیدا ہو وہ…
Read More