خشک سالی چل رہی ہے آنکھ خالی چل رہی ہے ہاتھ مہندی سے رنگے ہیں رخ پہ لالی چل رہی ہے دن ہے روشن کیوں ازل سے رات کالی چل رہی ہے کر رہا ہوں رقصِ بسمل اس کی تالی چل رہی ہے کون دیکھے میری جانب بے خیالی چل رہی ہے کانچ جیسی اُس کی گردن جس پہ بالی چل رہی ہیں
Read MoreTag: Aftab Mahmood Shams
آفتاب محمود شمس ۔۔۔ جو دل کی شورشوں کا اب کے حساب کرتے
جو دل کی شورشوں کا اب کے حساب کرتے خود کو تباہ کرتے ، تجھ کو خراب کرتے مجھ کو خدا جو دیتا تخلیق کا ہنر تو دریا بناتے تجھ کو خود کو سراب کرتے کیوں اب دکھائے مجھ کو مر کر جناب چہرہ مجھ سے تھا پردہ ان کا ، اب بھی حجاب کرتے نامہ مرا گیا ہے گزرے ہیں اب کے برسوں قسمت نہیں تھی میری حاصل جواب کرتے دل کی گلی میں آ کر کرتے سوال ہم سے ہم اُس سوال ہی کو، اُس کا جواب کرتے…
Read More