نظم
۔۔۔۔۔
اب اپنی تلاش میں نکلیں گے
اور من کے اندر جھانکیں گے
جو عمر بتائی دنیا میں
اس عمر کی کوئی بات نہیں
مجھے یار نے یہ بتلایا ہے
دنیاداری دھوکا ہے
تم اس کے جال میں مت آنا
تم اپنی کھوج میں نکل پڑو
اب اس نگری میں جانا ہے
جہاں جسم کی کوئی ذات نہیں
جہاں سانسوں کو بھی مات نہیں
جہاں کوئی دن اور رات نہیں
جہاں حرفوں کی اوقات نہیں
جہاں خاموشی لب کھولتی ہے
Related posts
-
شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو... -
امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد
حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ... -
ضد ۔۔۔ پروین شاکر
ضد ۔۔۔۔ میں کیوں اُس کو فون کروں! اُس کے بھی تو علم میں ہو گا...
