اعتراف
۔۔۔۔۔
کیا تمہیں بھی یاد ہے
ہم نے بھی تو پکڑی تھیں
رنگ رنگ تتلیاں
چند لمحوں کے لیے
ہاتھ میں جو رہتی تھیں
ہم یہی سمجھتے تھے
مل گئی ہو جس طرح
ہم کو ساری کائنات
میری مٹھی میں دبا
تھا تمہارا پیار بھی
پر نجانے کس طرح
تتلیوں سا پیار وہ
قید رکھنے کے لیے
بند تھی جو آج تک
میری مٹھی کھل گئی
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی... -
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے... -
حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار...
