پروین شاکر
۔۔۔۔۔۔۔
وہ جس کے نام کی بکھری نگر نگر خوشبو
ادب سے روٹھ گئی آج وہ مگر خوشبو
ہر ایک رنگ تھا اس کے سخن اجالے میں
دھنک گلاب شفق تتلیوں کے پر خوشبو
اسے قرینہ تھا ہر ایک بات کہنے کا
سماعتوں کے وہ سب کھولتی تھی در خوشبو
وہ خود کلامی تری تیرا جبر سے انکار
ہیں تیری سوچ کے صد برگ نامہ بر خوشبو
جو تیرے پھول سے بکھری ہے ان ہوائوں میں
ہمیشہ کرتی رہے گی وہ اب سفر خوشبو
نہ جانے اتریں کہاں سے وہ ساعتیں سفاک
نہ جانے کس کی تجھے لگ گئی نظر خوشبو
ادب میں اس کا بدل کوئی بھی نہیں ہے جلیل
سخن میں اس نے بکھیری جو معتبر خوشبو
Related posts
-
غلام حسین ساجد ۔۔۔ خاک کی کیمیا
خاک کی کیمیا آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے... -
اختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام
شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو شبنم کی یاد آنے... -
شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو...
