ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ روشنی ہے ، رتجگے ہیں آئنوں کے شہر میں

روشنی ہے ، رتجگے ہیں آئنوں کے شہر میں آپ جب سے آگئے ہیں آئنوں کے شہر میں چشمِ حیرت سے ہمیں بھی تک رہے ہیں شیشہ گر ہم بھی جیسے آئنے ہیں آئنوں کے شہر میں بٹ گئے ہیں بس گروہوں میں سبھی اہلِ نظر دائرے ہی دائرے ہیں آئنوں کے شہر میں اہلِ عرفاں سے کہو، اِس کی وضاحت کر سکیں ہم بُرے ہیں یا بھلے ہیں آئنوں کے شہر میں دیکھتے ہی دیکھتے پتھر ہوئے ہیں آئنے آئنے پتھر ہوئے ہیں آئنوں کے شہر میں آئنوں کو…

Read More

آمنہؓ کے گھر عرب کا چاند پیدا ہوگیا ۔۔۔ ریاض ندیم نیازی

آمنہؓ کے گھر عرب کا چاند پیدا ہوگیا ظلمتیں گم ہوگئیں جگ میں اُجالا ہوگیا گِر پڑی تلوار دشمن کی تو آقاؐ رُک گئے یہ عمل دیکھا تو دشمن خود ہی اپنا ہوگیا آپؐ کے اخلاق کے ، دشمن بھی قائل ہوگئے رفتہ رفتہ اُنؐ کا کُل عالم میں چرچا ہوگیا نعت کو اَپنا لیا جس نے بہ اندازِ کمال مُعتبر آواز ، محکم اُس کا لہجہ ہوگیا ہوگئیں پھر دل کی ساری ہی دُعائیں مستجاب شامل اُنؐ کا جب ، دُعاؤں میں وسیلہ ہوگیا آپؐ ہی کے ساتھ ساتھ…

Read More

وسیم جبران۔۔۔ آخری بات

میں اسٹیشن پہ پہنچا تھا اُسے رخصت جو کرنا تھا کبھی ہر وقت یوں ہی بات کرتی، مسکراتی، شوخیاں کرتی عجب لڑکی خدا جانے وہ کیوں خاموش تھی اتنی وہ سپنوں سے بھری آنکھیں بڑی بے چین تھیں اس دن گلابی لب لرزتے تھے اگرچہ کپکپاتے تھے مگر خاموش رہتے تھے مرے دل میں خیال آیا کہ میں کہہ دوں سنو، جاناں! یہ اسٹیشن نہ یوں تم چھوڑ کر جائو یقیں مانو کہ اب ہر پل مجھے تم یاد آئو گی مگر جب کہہ نہیں پایا تو الجھن بڑھ گئی…

Read More