زمانے! مِرے لفظ جگنو بنیں اور گلِ گفتگو جب کھِلے اُس پہ تتلی جھُکے میرے ہونٹوں پہ خوشبو رہے میرے آنسو ستاروں کی مانند چمکیں مِرے دِل کے دریا کنارے پرندے نہائیں تِرے گیت گائیں گلابی اُفق پر گذرتی ہُوئی شام ہلکے سلیٹی لبادے میں ملبوس بادل کے ہمراہ پکنک پہ نِکلی ہُوئی ہے سمندر کنارے پہ اِک سرخ چھتری تلے زِندگی نیم عریاں پڑی ہے خمیدہ کمر والے بوڑھے کی برفاب آنکھوں میں جلتی ہُوئی آگ چھتری کے نیچے پڑی لاش کو اپنی خواہش کے تابوت میں رکھ رہی…
Read MoreMonth: 2021 دسمبر
شہزاد نیر ۔۔۔ پھندے میں پھنسا ہرن
پھندے میں پھنسا ہرن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھیں وہی لفظ اچھے لگتے ہیں جو ان کے دماغ میں دھری طفلانہ نوٹ بک کے لکیر دار صفحے کی سیدھی لائنوں پر لکھے گئے ہوں بے لکیر صفحوں کی آزاد تحریریں انھیں سیدھے راستے سے بھٹکی ہوئی دکھائی دیتی ہیں کاش کسی روز وہ زاویہ بدل کر دیکھیں انھیں خیالات کو قطار در قطار چلانا پسند ہے اگلے اونٹ کی دم سے بندھی پچھلے اونٹ کی نکیل قطار چلتی رہتی ہے بن جانے کہ کدھر کو جاتی ہے وہ لفظوں کو قدیم نقوشِ پا…
Read Moreمحسن اسرار ۔۔۔ چاہا ہے اسے میں نے محبت کے سوا بھی
چاہا ہے اسے میں نے محبت کے سوا بھی کچھ اس سے تعلق ہے رفاقت کے سوا بھی اک روح کوئی اور بھی ہے اس میں الگ سے رکھتی ہے نظر مجھ پہ عنایت کے سوا بھی تقسیم وہ کرتی ہے مجھے سود و زیاں میں میں اس کو میسر ہوں ضرورت کے سوا بھی اے کاش! اکیلے میں گنائے وہ مرے عیب تصویر بنائے مری صورت کے سوا بھی ہوتا ہی نہیں میں کبھی اس آنکھ سے اوجھل رہتا ہوں عقوبت میں عقوبت کے سوا بھی چہرے سے ہٹا…
Read Moreسرفراز تبسم ۔۔۔ دو غزلیں
سب سے اونچی اڑان ہے میری ہر پرندے میں جان ہے میری آسماں سے گرا سمندر میں آگے منزل گمان ہے میری ایک دنیا کو رشک ہے مجھ پر ساری دنیا ہی شان ہے میری مری دنیا کو رشک ہے تجھ پر تیری دنیا سے شان ہے میری میں پرندوں کا پیڑ ہوتا تھا سب سے میٹھی زبان ہے میری جوق در جوق آ رہے ہیں لوگ سب سے اونچی اذان ہے میری نفرتیں آگ میں جلانی ہیں راگ دیپک کی تان ہے میری گھر ہواؤں میں اب بناؤں گا…
Read Moreسعید راجہ ۔۔۔ حوصلہ سامان میں رکھا ہوا ہے
حوصلہ سامان میں رکھا ہوا ہے اشک بھی امکان میں رکھا ہوا ہے دیپ طاقوں میں جلائے جا چکے ہیں آندھیوں کو دھیان میں رکھا ہوا ہے چاندنی رکھی ہوئی ہے گھر کے اندر دھوپ کو دالان میں رکھا ہوا ہے اک جہاں وہ ہے جسے سب دیکھتے ہیں اک تری مسکان میں رکھا ہوا ہے کرتا رہتا ہوں خدا سے بات اکثر دل کو اطمینان میں رکھا ہوا ہے لاؤ کوئی شے جو ہو اس کے برابر درد کو میزان میں رکھا ہوا ہے رقص میں ہیں ریشمی یادوں…
Read Moreسید فخرالدین بَلّے ۔۔۔ حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الہٰی ! کون مٹا دین کی بقا کیلئے یہ کس نے جامِ شہادت پیا وفا کیلئے یہ کس نے کردیا قربان گھرکا گھر اپنا یہ کس نے جان لُٹا دی تری رضا کیلئے حسین ہی کی ضرورت تھی کربلاکے لئے ہنوز تشنہ تھی روحِ پیامِ ربِ جلیل ہنوز تشنہ و مبہم تھی زندگی کی دلیل ہنوز تشنۂ تکمیل تھا مذاق ِ خلیل حصولِ مقصدِ تعلیمِ انبیاء کیلئے حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے قیامِ فصلِ بہاراں کا کام باقی تھا علاجِ…
Read Moreخالد احمد
کچھ جدائی کے دامن میں بھی چھوڑ دیں ربط رکھیں ، اگر دوستی چھوڑ دیں
Read Moreفیصل زمان چشتی ۔۔۔ اپنے ترکش میں لیے تیر کہاں تک پہنچی
اپنے ترکش میں لیے تیر کہاں تک پہنچی میرے پیچھے مری تقدیر کہاں تک پہنچی ترے غم نے مری خوشیوں کو عزادار کیا دیکھ لو درد کی زنجیر کہاں تک پہنچی ہم نے مانگا نہ دعاؤں میں کوئی تاج محل چند سپنوں کی بھی تعبیر کہاں تک پہنچی سارے اعمال پہ بھاری ہے مروت کا گنہ لے کے مجھ کو یہی تقصیر کہاں تک پہنچی کٹ گرا دل ترے پیغام کو پڑھتے پڑھتے تو کہاں تھا تری شمشیر کہاں تک پہنچی جس نے ہر درد مرے نام کیا ہے فیصل…
Read Moreاحمد محسود ۔۔۔ مرے پیارے خدا اتنی رعایت کر
مرے پیارے خدا اتنی رعایت کر فقط اک شخص مانگا ہے عنایت کر بہت اغیار کی سنتا ہے اے منصف کبھی فریاد میری بھی سماعت کر تو اپنے جھوٹ کو بھی معتبر کر لے مری سچی کہانی کو حکایت کر مرا مسلک مرا فرقہ اداسی ہے دلِ وحشی کسی دکھ کی تلاوت کر ترے بس میں کہاں ترکِ روایت ہے قبیلے کے بزرگوں کی اطاعت کر مرا حصہ ہڑپ کر وہ یہ کہتا ہے خدا کا شکر ادا کر تو قناعت کر مری منزل فرازِ دار ہے احمد تجھے کس…
Read Moreوحید ناز ۔۔۔ اُس کے کانوں میں جو بالی ہوتی ہے
اُس کے کانوں میں جو بالی ہوتی ہے اُس نے میری جان نکالی ہوتی ہے آنکھوں میں تو اُس کے کاجل ہوتا ہے اور ہونٹوں پہ اُس کے لالی ہوتی ہے اُس کی باتیں سُننے والی ہوتی ہیں اُس کی صورت دیکھنے والی ہوتی ہے سیر کو آئو میرے دل کے گلشن میں یہاں کی تو ہر چیز مثالی ہوتی ہے پیار پتنگے جلتے ہیں مر جاتے ہیں دل والوں کی ذات جلالی ہوتی ہے تیرے جیسا ہیرا ملنا مشکل ہے عاشق نے ہر کان کھنگالی ہوتی ہے
Read More