وسیم جبران ۔۔۔ کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے

کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے دلِ حزیں ترے جنگل میں آگ جلتی ہے برس رہے ہیں بہت گرم اشک پلکوں سے تمہاری آنکھ کے بادل میں آگ جلتی ہے چمن بہار میں افسردہ ہے تمہارے لیے گلوں میں، شاخ میں، کونپل میں آگ جلتی ہے اگرچہ لفظ ہے بس ایک ہی محبت کا لکھوں جو سرچ میں گوگل میں آگ جلتی ہے کتاب جنگ و جدل کی لکھی مورخ نے تو بابِ آخر و اول میں آگ جلتی ہے تمہارے عشق کی جبرانؔ کیا کہانی ہے…

Read More

وسیم جبران … دو غزلیں

فتنہ ہے، تعصب ہے، بندوق ہے ، گولی ہے اِس شہر میں ہر لحظہ بس خون کی ہولی ہے اک نام لیا اُس نے کچھ ایسی محبت سے گویا مرے کانوں میں شیرینی سی گھولی ہے پت جھڑ کی وہی شامیں، آنسو بھی نظر آئے یادوں کی کوئی کھڑکی جب آنکھ نے کھولی ہے اک بار نظر بھر کے دیکھا ہے مجھے اُس نے اک آن میں یہ ہستی مخمور ہے ڈولی ہے میرا نہ تھا وہ کل بھی، سمجھا ہے یہ اب میں نے ہر بات محبت کی ادراک…

Read More

وسیم جبران۔۔۔ آخری بات

میں اسٹیشن پہ پہنچا تھا اُسے رخصت جو کرنا تھا کبھی ہر وقت یوں ہی بات کرتی، مسکراتی، شوخیاں کرتی عجب لڑکی خدا جانے وہ کیوں خاموش تھی اتنی وہ سپنوں سے بھری آنکھیں بڑی بے چین تھیں اس دن گلابی لب لرزتے تھے اگرچہ کپکپاتے تھے مگر خاموش رہتے تھے مرے دل میں خیال آیا کہ میں کہہ دوں سنو، جاناں! یہ اسٹیشن نہ یوں تم چھوڑ کر جائو یقیں مانو کہ اب ہر پل مجھے تم یاد آئو گی مگر جب کہہ نہیں پایا تو الجھن بڑھ گئی…

Read More

وسیم جبران ۔۔۔ منہ پہ سورج نے خوں ملا ہوا تھا

منہ پہ سورج نے خوں ملا ہوا تھا مجھ سے جس شام وہ جدا ہوا تھا مجھ کو بس تُو دکھائی دیتا تھا ایسا جادو ترا چلا ہوا تھا میرا غصہ شدید تھا لیکن تُو بھی حد سے ذرا بڑھا ہوا تھا پھر مری جیت تو یقینی تھی تُو مرے ساتھ جب کھڑا ہوا تھا ایک بھونچال سے ذرا پہلے اک پہاڑی پہ گھر بنا ہوا تھا میری آنکھیں چھلکتی جاتی تھیں دل محبت سے جب بھرا ہوا تھا ہم سفر میں رہے سدا جبرانؔ راستا پائوں میں پڑا ہوا…

Read More