فتنہ ہے، تعصب ہے، بندوق ہے ، گولی ہے اِس شہر میں ہر لحظہ بس خون کی ہولی ہے اک نام لیا اُس نے کچھ ایسی محبت سے گویا مرے کانوں میں شیرینی سی گھولی ہے پت جھڑ کی وہی شامیں، آنسو بھی نظر آئے یادوں کی کوئی کھڑکی جب آنکھ نے کھولی ہے اک بار نظر بھر کے دیکھا ہے مجھے اُس نے اک آن میں یہ ہستی مخمور ہے ڈولی ہے میرا نہ تھا وہ کل بھی، سمجھا ہے یہ اب میں نے ہر بات محبت کی ادراک…
Read More