شہاب اللہ شہاب ۔۔۔ رنگ آنکھوں سے بھی لگتا ہے نیا ہو جیسے

رنگ آنکھوں سے بھی لگتا ہے نیا ہو جیسے دل کی دھڑکن نے کوئی ساز بنا ہو جیسے اس کی آنکھوں میں تھے پیغام ہزاروں لیکن تیری خاطر تھا جو روشن وہ جدا ہو جیسے اب تو بس یاد ہے اتنا ہی تعارف اس سے کوئی رستے میں اچانک ہی ملا ہو جیسے اس کی جھپکن میں مرا نام تھا میں چونک گیا مجھ کو لگتا تھا کہ ہر شے نے سنا ہو جیسے تم مرا حال سنو گے تو پریشاں ہوگے اجڑی قبروں سے دیا ٹوٹا ملا ہو جیسے…

Read More

انصر حسن ۔۔۔ مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے

مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے کوئی میری زندگی ہے کوئی میری جان ہے کس لئے کوئی نگارش میں زمانے کی پڑھوں بچپنے سے پاس میرے میر کا دیوان ہے جسم کے زندان سے آزاد کوئی ہو گیا یار مسجد میں کسی کی موت کا اعلان ہے رہ رہا ہوں ان دنوں میں ایک ریگستان میں شہر ہے برباد بستی بھی مری ویران ہے دل یہ کہتا ہے کہ آئیں گے مسافر لوٹ کر دل یہ کہتا ہے کہ ملنے کا ابھی امکان ہے جو ترا…

Read More

پیرزادہ قاسم ۔۔۔ ﺳﻔﺮ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ

ﺳﻔﺮ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﺳﻔﺎﻝِ ﺟﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﻒِ ﮐﻮﺯﮦ ﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﮨﮯ، ﮐِﺴﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﺨَﻦ ﮔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺻﻒِ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧِﯿﺮﮦ ﺳﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﺯ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ ﮔﯽ ﺑﻼ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺩﺍ ﮨﻮ ﺳﺮ ﻣﯿﮟ‘ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﯾﮧ ﺑﺮﮒ ﻭ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﭼﻮﺏِ ﺟﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﻧﻤﻮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺭﻣﻖ ﺗﻮ ﺷﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﺍﺳﯿﺮ ﮐﺐ ﯾﮧ ﻗﻔﺲ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺍُﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﺴﺮﺕِ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ

Read More

امیر مینائی کا صنم خانہ عشق ۔۔۔ امین جالندھری

”صنم خانہ عشق“ معروف شاعر حضرت امیر احمد امیر مینائی کا مجموعہ غزلیات ہے، جسے معروف شاعر پروفیسر عتیق احمد جیلانی نے کمال محنت اور محبت سے مرتب کیا ہے۔ مرتب صنم خانہ عشق پروفیسر ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی نے زیرِ نظر نسخہ میں جدید اصول املا، رموز اوقاف اور صحتِ متن کے لئے خاصی محنت اور جدوجہد کی ہے۔ حضرت امیر مینائی سے متعلق تمام علمی کاوشوں کا مقصد وحید بھی یہی ہے کہ انیسویں صدی کے اس ”نابغہ عصر“ کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔ صنم خانہ عشق…

Read More

اکیسویں صدی کے افسا نے میں تغیر پذیر سماجی اقدار ۔۔۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

 بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ ہر شئے تغیر پذیر ہوتی جاتی ہے۔ ادب سماج کا عکاس ہو تا ہے لہٰذا سماج کی تبدیلی کے اثرات تو ادبی تخلیقات میں دکھائی دیتے ہیں۔ سماج در اصل انسانی گروہ کے اعمال و افعال کا آئینہ ہو تا ہے۔ سماج کی اپنی راہیں ہوتی ہیں۔ صحیح و غلط کے پیمانے ہوتے ہیں۔ اچھی باتیں اور اچھے کام سماج میں سکون، اطمینان، خوش حالی اور امن و امان کے قیام کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے بر عکس غلط باتیں اور غلط کام سماج…

Read More

سلطان جمیل نسیم کا ’ایک ہی مٹی کے لوگ‘ ـ جاوید اختر بھٹی

سلطان جمیل نسیم معروف افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانوں کا چھٹا مجموعہ ”ایک ہی مٹی کے لوگ“ میرے سامنے ہے۔ ان کی کہانیاں ہمارے معاشرے کے گرد گھومتی ہیں۔ ان چودہ افسانوں میں ہمارے عہد کے لوگ ہیں۔ ایک ہی مٹی میں پیدا ہونے والے اور ایک ہی مٹی میں خاک ہونے والے۔ نسیم لکھتے ہیں: ”ہم انسان کو کتنا جان سکتے ہیں۔ کون دعویٰ کرسکتا ہے۔ انسانی زندگی میں اچانک ظاہر ہونے والا کوئی ایک رویہ اس فرد کی گزشتہ ساری زندگی کے روز و شب کے حوالے…

Read More