بھار تیندو ہریش چندر ۔۔۔ دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا

دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا اے شعلہ رخو آگ لگانا نہیں اچھا کس گل کے تصور میں ہے اے لالہ جگر خوں یہ داغ کلیجے پہ اٹھانا نہیں اچھا آیا ہے عیادت کو مسیحا سرِ بالیں اے مرگ! ٹھہر جا‘ ابھی آنا نہیں اچھا سونے دے شبِ وصلِ غریباں ہے‘ ابھی سے اے مرغِ سحر شور مچانا نہیں اچھا تم جاتے ہو کیا جان مری جاتی ہے صاحب اے جانِ جہاں آپ کا جانا نہیں اچھا آ جا شبِ فرقت میں قسم تم کو خدا کی اے موت…

Read More

برق دہلوی ۔۔۔ دل جو صورت گرِ معنی کا صنم خانہ بنے

دل جو صورت گرِ معنی کا صنم خانہ بنے آنکھ جس شے پہ پڑے جلوۂ جانانہ بنے اتنے ہی ہو گئے ہم منزلِ عرفاں کے قریب جس قدر رسم و رہِ دہر سے بیگانہ بنے تا درِ یار پہنچتا ہے وہ خود رفتۂ شوق اپنی ہستی سے جو اس راہ میں بیگانہ بنے ظرفِ مے ٹوٹ کے بھی ہونے نہ پائے بے کار ہو شکستہ کوئی شیشہ تو وہ پیمانہ بنے سعیٔ ناکام سے میں ہاتھ اٹھاؤں گا نہ برق میری بگڑی ہوئی تقدیر بنے یا نہ بنے

Read More

صائمہ آفتاب ۔۔۔ رات گزری نہ آنکھ بھر سوئے

رات گزری نہ آنکھ بھر سوئے ہم کہاں تجھ کو بھول کر سوئے دو جہانوں میں برسرِ پیکار ایک پہلو سے بے خبر سوئے ہم سگِ کوئے یار اپنے تئیں غفلتی ہو کے در بدر سوئے نوعِ انساں کی بے بسی دیکھو نیند آتی نہ تھی مگر سوئے چھوڑ خوابوں کے نرمگیں بستر جانے سب کیوں اِدھر اُدھر سوئے باغ کے پہرے دار آئے کئی اور اُن میں سے بیشتر سوئے ہجر بیگار کا سَمے کس کو دن کے مصروف رات بھر سوئے زندگی ، سب ترے تھکائے ہوئے آخرش…

Read More

سید فرخ رضا ترمذی ۔۔۔۔ جب ہم نے بار بار اسے آزما لیا

جب ہم نے بار بار اسے آزما لیا تب ہی تو اس کے بارے کوئی فیصلہ لیا شب بھر تمہاری یاد میں مخمور سا رہا شب بھر تمہاری یاد کا ایسا مزا لیا تاریکیوں میں روشنی پانے کے واسطے ہم نے تمہاری یاد کو جگنو بنالیا تجھ سے وصال میرے لئے ہے کمالِ ذات ہم نے ترے جمال سے خود کو سجا لیا یاروں کا حال دیکھ کے فرّخ رضا نے اب چپ چاپ اپنا حال سبھی سے چھپا لیا

Read More