سید فرخ رضا ترمذی ۔۔۔ پھول کھلنے لگے اور رات سہانی آئی

پھول کھلنے لگے اور رات سہانی آئی تیرے آنے کی خبر جب مری رانی آئی میرے اجداد نے میراث میں ہجرت چھوڑی میرے حصے میں بھی بس نقل مکانی آئی مدتوں بعد جو اسباب سنبھالا میں نے یار کی اس میں نظر مجھ کو نشانی آئی آج جب بزم میں اک دوست پرانا دیکھا آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی جب عریضے کو کیا میں نے سپردِ دریا ٹھہرے پانی میں نظر مجھ کو روانی آئی بات کہنے کے ہنر پر تھا بہت ناز مجھے پر کبھی اپنی کہانی…

Read More

غلام مرتضیٰ ۔۔۔ دامن میں اک پہاڑکے۔۔۔۔۔۔

دامن میں اک پہاڑکے۔۔۔۔۔ (SAMUEL ROGERSکی نظم ’’A WISH ‘‘ کا آزاد ترجمہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دامن میں اک پہاڑ کے کٹیا بناؤں گا میں چھوڑ کر نگر، کوئی جنگل بساؤں گا ہر صبح بھیرویں مجھے گا کر سنائے گی کانوں میں رس پڑے گا، مگس بھنبھنائے گی چکّی مری چلائے گی بہتی ہوئی ندی جھرنوںکے نیلے جل سے، ہری گھاس سے بھری اس چھت کے نیچے رہنے ابابیل آئے گی گارے کے گھونسلے میں بہت چہچہائے گی مہمان تحفہ لائے گا اک جانماز کا کھائے گا ساتھ کھانا وہ زائر حجاز…

Read More

اسلام عظمی ۔۔۔ کسی اور کا ہے جہاں ‘ یار جی

کسی اور کا ہے جہاں ‘ یار جی ہے بیکار آہ و فغاں ‘ یار جی پرانی کہانی کے کردار ہیں نئی کب ہے یہ داستاں ‘ یار جی کوئی بزم میں لوٹ آیا ہے پھر عجب ہو گیا ہے سماں ‘ یار جی گزارا ہے جب بے نشانی میں دن تو کیا ڈھونڈنا ہے نشاں ‘ یار جی

Read More

محمد علی ایاز ۔۔۔ کسی کو سوچ کا محور بنایا جائے گا

کسی کو سوچ کا محور بنایا جائے گا پھر اس کے بعد اسے دل میں لایا جائے گا بنایا جائے گا اس کو ضروری اپنے لیے پھر ایک روز اسے بھی بھلایا جائے گا اے کوزہ گر مجھے اتنا بتا دیا جائے مرا خمیر کہاں سے اٹھایا جائے گا شعورِ ذات سے آگے اگر میں بڑھ پایا چراغِ عشق بھی اک دن جلایا جائے گا کیا گیا ہے یہ وعدہ بھی میرے ساتھ ایاز مجھے بھی خود سے کسی دن ملایا جائے گا

Read More

انتظار سید ۔۔۔ کچھ اسطرح سے ہوئی عشق میں ہتک میری

کچھ اسطرح سے ہوئی عشق میں ہتک میری کہ اشک اشک بھگوئی گئی پلک میری تم اپنے باغِ عدن پر نہ اتنا اتراؤ کہ گُل تمہارے ہیں سارے مگر مَہک میری تڑپ تڑپ کہ غموں کا نگر رہے آباد کہ ختم ہو ہی نہ جائے کہیں کسک میری خدایا شکر، کہ اس نے رکھے قدم دل پر وگرنہ کتنی ہی ویراں تھی یہ سڑک میری پھر ایک سَمت سے اُبھری وہ آفتاب نظر کہ ماند پڑنے ہی والی تھی سب چمک میری بھری تھی ایک ہی جست آسماں کی جانب…

Read More

تاثیر نقوی ۔۔۔ بگڑے ہوئے ہیں آجکل اُنکے مزاج بھی

بگڑے ہوئے ہیں آجکل اُنکے مزاج بھی مْجھکو ملے ضرور مگر بات بھی نہ کی اُنکے ہمارے درمیاں کُچھ مسئلہ نہ تھا لیکن ضرور کوئی غلط فہمی ہو گئی سب کا معاملہ یہاں بس ایک ہی رہا وحشت کے دائرے سے نہ نکلا یہاں کوئی امکان ہے کہ آیئنگے وعدے پہ وْہ ضرور مْجھکو بتا رہی ہے مِرے دِل کی روشنی کب سے کھڑے ہوئے ہیں تِرے راستے میں ہم کب ختم ہو گی جانے گھڑی انتظار کی گو اِک زمانہ ہو گیا تُجھ سے جُدا ہوئے محسوس ہو رہی…

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ لوگوں سے جس نے خود کو چھپایا، وہ کون تھا

لوگوں سے جس نے خود کو چھپایا، وہ کون تھا کل شب نقاب پوش جو آیا، وہ کون تھا وہ کون تھا کہ جس نے الٹ دی بساطِ خواب جس نے یہ سارا کھیل رچایا، وہ کون تھا ہم سارے دوست ایک جگہ جمع ہوتے ہیں دشمن کو جا کے جس نے بتایا، وہ کون تھا افلاس کی لکیر سے نیچے ہو خیمہ زن تم کو جو اس نشیب میں لایا، وہ کون تھا حرمت سبھی پہ فرض ہے دل کے مکان کی دیوار جو پھلانگ کے آیا، وہ کون…

Read More

اکمل حنیف ۔۔۔ بظاہر جو اکیلا ہے

بظاہر جو اکیلا ہے وہ اپنے ساتھ بیٹھا ہے مجھے خاموش رہنا ہے کہانی کار کہتا ہے کوئی رونے لگا مجھ میں یہ کیسا خواب دیکھا ہے نظر انداز کرنا بھی سزا دینے کے جیسا ہے مقابل بیٹھنا اْس کا مجھے تسلیم کرنا ہے ترے بن چار سو صحرا ترے بن آنکھ دریا ہے تمھارے مسکرانے سے ہمارا حال اچھا ہے کہا اُس نے مجھے سن کر یہ اچھے شعر کہتا ہے سبھی کردار ہیں اکمل یہ دنیا اک تماشا ہے

Read More

سرور حسین نقشبندی ۔۔۔ گستاخی

گستاخی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے ذہنوں پہ بت پرستی کے اب بھی تالے پڑے ہوئے ہیں تمہیں تمہاری ہی بے یقینی نے ڈس لیا ہے جکڑ لیا ہے تمہیں تمہاری ہی بے حسی نے خدا سے دوری نے تم سے بینائی چھین لی ہے دلوں پہ غفلت کی سرخ مہریں لگی ہوئی ہیں اسی لئے تو یہ کر رہے ہو زباں درازی تمہارے اندر جو بغضِ احمد کے تیز شعلے بھڑک رہے ہیں جو ان سے نفرت کا گرم لاوہ دہک رہا ہے اسی میں جلنا ہے تم نے آخر نہ ان…

Read More