مفلسی کی نہیں تکلیف نہ بیماری کی میرا دکھ یہ ہے کہ بچوں سے اداکاری کی دکھ تہِ تیغ کیے ہجر کو بخشی دھڑکن اپنی جاگیر میں ہم نے بڑی سرداری کی آستینوں میں لیے بیٹھی ہیں شاخیں خنجر کس نے دھرتی پہ ہے نفرت کی شجرکاری کی سکھ کو پانے کے لئے پھرتا تھا مارا مارا پھر بھی تجھ درد کی اس دل نے خریداری کی خواب دیکھے بھی نہیں رنگ بھی آنکھوں سے گئے دلِ معصوم نے یہ کیسی سمجھداری کی نہ مرا وصل سلامت نہ رہا ہجر…
Read MoreMonth: 2023 جنوری
حسن عسکری کاظمی ۔۔۔ دعا: قرطاس پہ سجدہ کرے اور آنکھ میں نم ہو
قرطاس پہ سجدہ کرے اور آنکھ میں نم ہو اک تیری محبت میں جھکے ایسا قلم ہو میں تیری عبادت کے تصور میں رہوں گا وہ مسجدِ اقصیٰ ہو کہ وہ صحنِ حرم ہو ہمدوشِ ثریا مری تقدیر ہو یا رب! پہنچوں درِ جنت پہ تو شانوں پہ علم ہو کچھ اور تقاضا نہیں تجھ سے دلِ مضطر خالق کا تصور ہو یا وہ دینِ کا غم ہو اِک حرف تمنا ہے یہی پردۂ شب میں جب ذکرِ الٰہی میں کروں آنکھ میں نم ہو اللہ کرے ایسا ہی انجام…
Read Moreخالد احمد
محفلِ ماہتاب میں نجمِ سحر نہیں تو کیا لاکھ نیاز مند ہیں ، ایک اگر نہیں تو کیا
Read Moreخالد احمد
سوچو تو کچھ نہ سمجھو ، سمجھو تو کچھ نہ بولو پھر چپ کا حسن دیکھو ، بیکار لب نہ کھولو
Read Moreشوکت محمود شوکت ۔۔۔ وفا ، کامل رضا ہے اور کیا ہے؟
وفا ، کامل رضا ہے اور کیا ہے؟ یقیں کی انتہا ہے اور کیا ہے؟ ہماری کامیابی کے سفر میں کسی کی بس دعا ہے اور کیا ہے؟ مخالف ، اس لیے بھی ہے زمانہ کوئی اپنا بنا ہے اور کیا ہے؟ جہانِ بحر و بر سے آسماں تک ہوا ہے یا خلا ہے اور کیا ہے؟ نگاہِ اہلِ دنیا میں زمانہ بھلا ہے یا برا ہے اور کیا ہے؟ رقیبِ رو سیہ پر مہربانی یہی تو اک گلہ ہے اور کیا ہے؟ زمیں مقتل کی صورت ہے جو شوکت…
Read Moreدعا ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی
اے خُدا ، سب کے خُدا ، میرے خُدا مانگا ہے تیرے کرم کا واسطہ حوصلہ قائم ہو ، نیّت نیک ہو ہے طلب خیرِ عمل کا راستہ غیرتِ فکر و شرف حاصل رہے دل بھی ہو روشن ، حمیّت یافتہ وہ نہیں ڈرتا کسی بھی غیر سے جو خُدا کے خوف سے ہے کانپتا علم کے دریا بہیں چاروں طرف بحرِ دانش سے نہ ٹوٹے رابطہ کاروبارِ روزمرّہ ہو روا بدنما صورت نہ ہو آراستہ خار کوئی راہ میں حائل نہ ہو پُھول تک جانے کا پائوں حوصلہ ناروائی…
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔ تخیل میں جو صورت رہ گئی ہے
تخیل میں جو صورت رہ گئی ہے وہی مٹی کی مورت رہ گئی ہے محبت کی وضاحت رہ گئی ہے یہی تو اِک اذیت رہ گئی ہے مجھے تم چھوڑ کر چلتے بنے ہو کہو اب کیا قیامت رہ گئی ہے ہماری بات تک سنتا نہیں تھا ہماری بھی شکایت رہ گئی ہے تری گفتار کے چرچے بہت تھے تری ساری مہارت رہ گئی ہے ہوئی کارِ محبت سے فراغت فراغت ہی فراغت رہ گئی ہے میں اپنے گاؤں کو پھر لوٹ جاؤں یہ دل میں ایک حسرت رہ گئی…
Read Moreامر مہکی ۔۔۔ معصوم چاہتوں کا بھی کیا سلسلہ رہا
معصوم چاہتوں کا بھی کیا سلسلہ رہا دیوانگی تھی اور گریباں سِلا رہا نادان سی لگن میں عجب احتیاط تھی نزدیکیوں کے سحر میں بھی فاصلہ رہا آئی ہے زندگی میں خزاں بارہا مگر جو پھول شاخ ِ دل پہ کِھلا تھا کِھلا رہا وہ چاند تھا کہ چہرہ کسی کا تھا جھیل میں منظر میں اور ہی کوئی منظر مِلا رہا جنموں کی پیاس بجھ نہیں پاتی کبھی امر صحرا کو بارشوں سے ہمیشہ گِلہ رہا
Read Moreفرح شاہد ۔۔۔ ریت
ریت ………. میں نے آخری وقت تک اس کا رستہ دیکھا تھا اور نجانے کتنے سالوں سے اس کی منتظر میں اب بھی ہوں اس نے ساتھ دینے اور چھوڑ جانے دونوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا تھا۔۔۔ کہ اس کی فطرت وفا شناس نہ تھی۔۔۔ یوں مری نظروں کے سامنے ہی وہ غیر کا ہاتھ تھام کر مری وفا پر مٹی ڈال کے مجھے زندہ ہی دفن کر گیا…. میں نے آخری وقت تک اس کا رستہ دیکھا تھا کیوں بھول گئی ؟…… وہ شخص ریت…
Read Moreجمیل یوسف ۔۔۔ کسی نے مجھ سے کہا ہے ، بہت اُداسی ہے
کسی نے مجھ سے کہا ہے ، بہت اُداسی ہے نظر میں ایک خلا ہے بہت اُداسی ہے ہوا بھی ٹھہری ہوئی ہے ، فضا بھی ہے خاموش کہیں پہ کچھ تو ہوا ہے بہت اداسی ہے سفید برف کی مانند کورے کاغذ پر مِرے قلم نے لکھا ہے بہت اداسی ہے میں کب سے گوش برآواز ہوں پکارو بھی تمھیں تو اس کا پتہ ہے، بہت اداسی ہے یہ لمحہ رُک سا گیا ہے کہ دیکھیے کیا ہو کہیں سے اس نے سنا ہے بہت اداسی ہے تمھاری جنبشِ…
Read More