لے کے آئی صبا مدینے سے نور کا اک دیا مدینے سے مہک آئی ہے پھر مدینے کی کوئی آیا ہے کیا مدینے سے؟ چادرِ گمرہی میں لپٹا ہوا ہو گیا پارسا مدینے سے جان آنکھوں میں سب سمٹ آئی جب ہوئے ہم جُدا مدینے سے ہو رہی ہے جو نور کی بارش آئی ہے یہ گھٹا مدینے سے مل گئے فاطمہؓ ، حسینؓ و حسنؓ اور مشکل کشا مدینے سے پہنچی بابِ قبول تک فوراً جو بھی مانگی دعا مدینے سے جیسے گل سے نکلتی ہو خوشبو یوں ہوئے…
Read MoreMonth: 2023 جنوری
شوکت محمود شوکت ۔۔۔ آدمی کی کیا حقیقت؟ آدمی کچھ بھی نہیں
آدمی کی کیا حقیقت؟ آدمی کچھ بھی نہیں زندگی بے قدر شے ہے ، زندگی کچھ بھی نہیں چاند تاروں سے مزین آسماں بے سود ہے دل اگر تاریک ہو تو چاندنی کچھ بھی نہیں حسنِ عیار و ستم ایجاد کے نخرے ، عبث عشقِ سادہ کی اداسی ، بے کلی کچھ بھی نہیں جب عصائے موسوی حرکت میں آئے تو کمال سامنے فرعون ہو یا سامری ، کچھ بھی نہیں گلشنِ دنیا کی رونق عارضی ہے عارضی دائمی کچھ بھی نہیں ہے ، سرمدی کچھ بھی نہیں درحقیقت ،…
Read Moreردا حاصل خلوص ۔۔۔ کسی حصار کی خواہش میں بے اماں ہوں گے
کسی حصار کی خواہش میں بے اماں ہوں گے ہم ایسے لوگ بہت جلد داستاں ہوں گے قفس نصیب ہیں لیکن اُمید رکھتے ہیں سرِ اُڑان کبھی اپنے آسماں ہوں گے جہانِ خواب میں رہتے تھے تیرے ملنے تک خبر نہ تھی مرے آگے بھی لامکاں ہوں گے لطیف لہجوں سے مرعوب ہوں نہ حضرتِ دل مبادا تلخ نوائی سے کل بیاں ہوں گے انا و ضد بھی ہماری انھیں عزیز رہی خبر نہ تھی کہ وہ اس درجہ مہرباں ہوں گے ہوا سے کتنا بچا سکتے ہیں دیے کو…
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔۔ نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے
نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے یہ ہم نے کیسے عجیب سے گھر بنا لیے تھے وہ جس ورق سے ہمیں بنانا تھی ایک کشتی اُسی ورق پر کئی سمندر بنا لیے تھے نہ جانے کیوں آسماں بہت یاد آ رہا تھا سو کچھ ستارے ہی سونی چھت پر بنا لیے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ عشق تقلید چاہتا ہے سو ہم نے بھی سارے اشک، پتھر بنا لیے تھے تو پھر وہ صحرا کے ساتھ رہتا تھا اپنے گھر میں سبھی دریچے ہوا کے…
Read Moreاردو تحریک اور مسعود حسین خاں ۔۔۔ پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ
بعض محققین کا خیال ہے کہ اردو کے عروج کا زمانہ سلطنت مغلیہ کے زوال (1857) کا زمانہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے محض دس سال بعد ہی سے اردو کے زوال کی بھی داستان شروع ہو جاتی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ 1867میں متحدہ صوبہ جات (United Provinces)، جسے اب اتر پردیش کہتے ہیں، کے بعض ہندو حکومت برطانیہ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکاری زبان اردو کو، جسے 1837میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا، کو…
Read Moreخطوطِ غالب: جو معاشرتی حالات سے موسم تک پر بہترین تبصرہ ہیں ۔۔۔ دھرمیندر سنگھ
غالِب کا ایک مقبول و معروف شعر ہے: قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں اردو کے مقبول ترین شاعر اسد اللہ خاں غالب کو دنیا ایک شاعر کی حیثیت سے جانتی اور مانتی ہے لیکن ان کے خطوط ان کے دور کی بہترین عکاسی کرتے ہیں جس سے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔ غالب کی شاعری ان کی شخصیت کی پہچان ہے لیکن غالب نے اپنے دوستوں، شاگردوں اور نوابوں کو بہت سے خطوط لکھے۔ یہ خطوط انھیں سمجھنے…
Read Moreمحمد حسین آزاد کے اسلوب کا تجزیاتی مطالعہ : بہ حوالہ ” نیرنگِ خیال” ۔۔۔۔ زاہد ہمایوں
A style is an aspect or dimension of thoughts and emotional manifestation which owes its existence to the individuality of an author. The despair in “Meer”, mysticism in “Dard” and loftiness of thoughts in “Ghalib” are all styles. Similarly, the gravity in “Hali”, the religious encroachments of Nazir Ahmed and imaginary personification in “Azad’s writings are all styles. According to a research conducted by “Dr. Muhammad Sadiq”, the essay of “Nairang-e-Khayal” are the translated versions of English pieces of writings of “Johnson”, “Edison”, and “Steele” etc. For the Sake…
Read Moreحیدر آباد دکن میں اردو شاعری کا جائزہ (عادل شاہی عہد سے 1960ء تک): ڈاکٹر ناہیدہ سلطانہ ۔۔۔ تبصرہ: ڈاکٹر عزیز سہیل
یدرآباد دکن کی جامعات سے فارغ اردو ریسرچ اسکالرس کی تحقیقی تخلیقات روز بہ روز ایک کے بعد دیگر منظر عام پر آ رہی ہیں ان میں چند ایک خواتین اسکالر بھی ہیں جنہوں نے اپنے موضوع سے متعلق بہت ہی معیاری اور منفرد تحقیقی کام انجام دیا ہے ان میں ایک معتبر نام ڈاکٹر ناہیدہ سلطانہ کا بھی ہے، ڈاکٹر ناہیدہ سلطانہ نے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے مکمل کیا ہے اور اب درس و تدریس کے میدان میں اپنے جواہر دکھا…
Read Moreاحمد کامران
عین ممکن ہے ترے ہجر سے مل جائے نجات کیا کریں یار یہ صحرا نہیں چھوڑا جاتا
Read Moreآدرش دبے
اس لیے تیری کہانی سے ہوں باہر مجھ سے اک کردار بہتر آ گیا تھا
Read More