کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاں نرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئی بات بے بات ہنستی ہوئی اپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیں جو خاموش تھیں ان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھی ان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا! آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے! دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچی ہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبر ریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھی اور میں سوچتی…
Read MoreMonth: 2026 اکتوبر
پروین شاکر ۔۔۔ صرف ایک لڑکی
اپنے سرد کمرے میں میں اداس بیٹھی ہوں نیم وا دریچوں سے نم ہوائیں آتی ہیں میرے جسم کو چھو کر آگ سی لگاتی ہیں تیرا نام لے لے کر مجھ کو گدگداتی ہیں کاش میرے پر ہوتے تیرے پاس اڑ آتی کاش میں ہوا ہوتی تجھ کو چھو کے لوٹ آتی میں نہیں مگر کچھ بھی سنگ دل رواجوں کے آہنی حصاروں میں عمر قید کی ملزم صرف ایک لڑکی ہوں!
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ تاج محل
سنگِ مرمر کی خنک بانہوں میں حسنِ خوابیدہ کے آگے مری آنکھیں شل ہیں گنگ صدیوں کے تناظر میں کوئی بولتا ہے وقت جذبے کے ترازو پہ زر و سیم و جواہر کی تڑپ تولتا ہے! ہر نئے چاند پہ پتھر وہی سچ کہتے ہیں اسی لمحے سے دمک اٹھتے میں ان کے چہرے جس کی لو عمر گئے اک دلِ شب زاد کو مہتاب بنا آئی تھی! اسی مہتاب کی اک نرم کرن سانچۂ سنگ میں ڈھل پائی تو عشق رنگِ ابدیت سے سرافراز ہوا کیا عجب نیند ہے…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی
اپنے پندار کی کرچیاں چن سکوں گی شکستہ اڑانوں کے ٹوٹے ہوئے پر سمیٹوں گی تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی کبھی اپنے بارے میں اتنی خبر ہی نہ رکھی تھی ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی مرا حوصلہ اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا لیکن یہاں خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!
Read Moreشہزاد احمد
بگڑی ہوئی اس شہر کی حالت بھی بہت ہے جاؤں بھی کہاں اس سے محبت بھی بہت ہے
Read Moreشہزاد احمد
ایک لمحے میں کٹا ہے مدتوں کا فاصلہ میں ابھی آیا ہوں تصویریں پرانی دیکھ کر
Read Moreشہزاد احمد
یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہے کوئی رشتہ تجھ سے جتنی امیدیں ہیں وابستہ ہیں تنہا تجھ سے
Read Moreشہزاد احمد
اپنے ہی عکس کو پانی میں کہاں تک دیکھوں ہجر کی شام ہے کوئی تو لب جو آئے
Read Moreشہزاد احمد
تمہاری آرزو میں میں نے اپنی آرزو کی تھی خود اپنی جستجو کا آپ حاصل ہو گیا ہوں میں
Read Moreشہزاد احمد
نہ ملے وہ تو تلاش اس کی بھی رہتی ہے مجھے ہاتھ آنے پہ جسے چھوڑ دیا جاتا ہے
Read More