مجھے بس اتنی شکایت ہے مرنے والوں سے وہ بے نیاز ہیں کیوں یاد کرنے والوں سے
Read MoreMonth: 2026 اکتوبر
شہزاد احمد
ٹھہر گئی ہے طبیعت اسے روانی دے زمین پیاس سے مرنے لگی ہے پانی دے
Read Moreشہزاد احمد
آج تک اس کی محبت کا نشہ طاری ہے پھول باقی نہیں خوشبو کا سفر جاری ہے
Read Moreشہزاد احمد
شوق سفر بے سبب اور سفر بے طلب اس کی طرف چل دیے جس نے پکارا نہ تھا
Read Moreشہزاد احمد
چھپ چھپ کے کہاں تک ترے دیدار ملیں گے اے پردہ نشیں اب سرِ بازار ملیں گے
Read Moreشہزاد احمد
شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمع محفل سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو
Read Moreشہزاد احمد
تو کچھ بھی ہو کب تک تجھے ہم یاد کریں گے تا حشر تو یہ دل بھی دھڑکتا نہ رہے گا
Read Moreشہزاد احمد
واقعہ کچھ بھی ہو سچ کہنے میں رسوائی ہے کیوں نہ خاموش رہوں اہل نظر کہلاؤں
Read Moreشہزاد احمد
دل سا وحشی کبھی قابو میں نہ آیا یارو ہار کر بیٹھ گئے جال بچھانے والے
Read Moreشہزاد احمد
یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوں دل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے
Read More