درد و غم کا علاج کیسے ہو
چاہتوں کا رواج کیسے ہو
کل تو جو حال بھی تمھارا تھا
یہ بتاؤ کہ آج کیسے ہو
فرصتِ زندگی نہیں ہم کو
پھر بھَلا کام کاج کیسے ہو
یہ بھی حِصہ ہے زندگانی کا
ختم آخر سماج کیسے ہو
اِتنی مہنگائی میں بھَلا سوچو
گھر میں وافر اَناج کیسے ہو
ہم کو عزّت ندیم ہے درکار
سر پہ شہرت کا تاج کیسے ہو
Related posts
-
شاہد اشرف ۔۔۔ اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا
اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا آبِ دریا, لبِ دریا بھی میسّر نہیں تھا... -
غلام محمد قاصر ۔۔۔ یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے
یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے حسین اس میں خطِ کربلا بناتا ہے یزید موسمِ... -
ارشد حسین ۔۔۔ سینے میں موجزن ہے الم اہلِ بیت کا
سینے میں موجزن ہے الم اہلِ بیت کا ٹھہرا ہوا ہے آنکھ میں نم اہلِ بیت...
