ملا وجہی کا شمار دکن میں اردو کے ابتدائی مصنفین میں ہوتا ہے ۔ان کی داستان سب رس کو اردو کی قدیم اور قابل ذکر داستانوں میں خاص مقام حاصل ہے۔ملاوجہی کو اردو ،فارسی اور عربی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وجہی کے زمانے میں اردو ترقی یافتہ شکل میں نہیں تھی۔انہوں نے اسے عام بول چال کی زبان کی سطح سے اٹھا کر ادبی زبان بنانے کی اولین کوشش کی۔ان کی کتاب سب رس عشق و محبت کی داستاں ہونے کے ساتھ ساتھ پند و نصائح کا مرقع ہے۔جس…
Read MoreCategory: منتخب مضامين
ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی ۔۔۔۔ قلی قطب شاہ کی مذہبی شاعری
محمد قلی قطب شاہ( 1565-1611)سلطنت گولکنڈہ کا پانچواں فرماں رو اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر گذرا ہے۔ بہت کم عمر پائی۔ کم عمری میں سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی لیکن اس کے دیوان پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس کا دیوان پچاس ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ جس میں غزل ‘ قصیدہ‘ مثنوی‘ رباعی‘ مرثیہ وغیرہ تمام اصناف سخن پر طبع آزمائی کی گئی ہے۔ جہاں تک غزلوں کی تعداد کا تعلق ہے محمد قلی دکنی اردو کا سب سے اہم شاعر قرار پاتا ہے۔ محمد…
Read Moreڈاکٹر وزیر آغا صدی : سید فخرالدین بلے اور ڈاکٹر وزیر آغا ، داستان رفاقت
ڈاکٹر وزیر آغا صدی : سید فخرالدین بلے اور ڈاکٹر وزیر آغا ، داستان رفاقت پیدائش 18مئی 1922ء ۔۔ انتقال 7 ستمبر2010 داستان گو: ظفر معین بلے جعفری سال 2022 کو دنیائے اردو ادب میں ڈاکٹر وزیر آغا صدی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا عمر میں والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے سے تقریبا آٹھ برس بڑے تھے لیکن ہم نے ہمیشہ انہیں والد گرامی کا حد درجہ احترام کرتے دیکھا۔ ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے کی داستان رفاقت کا آغاز کب اور…
Read Moreڈاکٹر نذیر احمد ندوی ۔۔۔ ڈاکٹر علیم ؔعثمانی : توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک
ڈاکٹر علیم ؔعثمانی ۔ توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک ڈاکٹر محمد عبدالعلیم عثمانی جوادبی وشعری دنیا میں علیمؔ عثمانی کے نام سے مشہور تھے ، نہ صرف طبیب حاذق، کامیاب ہومیوپیتھ معالج ،بلکہ معروف ومقبول کہنہ مشق شاعر تھے۔ ان کی شخصیت باغ وبہار ،طبیعت مرنجان مرنج ،آواز سامعہ نواز اورانداز دلنواز تھا ۔بارگاہ ایزدی سے اگرانھیں ایک طرف جمال ظاہر سے سرفراز کیاگیا تھا تودوسری طرف دست قدرت نے انھیں بڑی فیاضی سے حسن باطن سے نواز اتھا،اس طرح وہ حسنِ صَوت وصورت اورخوبیٔ سیرت سے مالامال تھے۔…
Read Moreڈاکٹرمحمدافتخارشفیع ۔۔۔ شاعری میں سراپا نگاری کا تہذیبی و تمدنی زاویہ
شاعری میں سراپا نگاری کا تہذیبی و تمدنی زاویہ تہذیب، تمدن، ثقافت، کلچر چاروں اصطلاحیں ہم معنی تو نہیں لیکن ان میں بہت سے اشتراکات ہیں۔کلچر ایک نقطۂ نظر ہے، اس نقطۂ نظر کو عملی صورت تہذیب کی شکل میں دی جاتی ہے۔ ثقافت فنونِ لطیفہ کے ذریعے اظہار کی عملی صورت گری ہے لیکن اس میں طرزِ تعمیر، رہن سہن، رسوم و رواج بھی شامل ہیں۔’’ تمدن‘‘ کا تعلق زندگی گزارنے کے وضع کردہ اصولوں سے ہے۔ اس کے لیے انگریزی میں Civilization کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا…
Read Moreشمس الرحمٰن فاروقی کا فکشن(مقدمہ مجموعۂ شمس الرحمن فاروقی) ۔ ۔ ۔ محمد حمید شاہد
شمس الرحمٰن فاروقی کا فکشن اُردو ادب کا ایک مکمل باب ہے۔ اس باب کا مطالعہ تب ہی ڈھنگ سے ممکن ہو پائے گا کہ اُردوادب کی اس جید شخصیت کے فکشن کو مکمل صورت میں پڑھا جائے۔ فاروقی صاحب کے اس مجموعے کو مرتب کرنے کا خیال اُن کی زندگی ہی میں زیرِبحث آیا تھا مگر فیصلہ ہوا تھا کہ اس کی ابتدا اُن کے تہذیبی دستاویز ہو جانے والے ناول ”کئی چاند تھے سرِآسماں” سے کی جائے۔ اس ناول کی نئی اشاعت ان کی زندگی میں ہوئی مگر…
Read Moreکثیرالجہت شخصیت صفدر ہمدانی کی ادب کہانی … ظفر معین بلے جعفری
کثیرالجہت شخصیت صفدر ہمدانی کی ادب کہانی کہتے ہیں کہ ہرمرد کی کامیابی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور ہم محترم صفدر ہمدانی کی کامرانی کودیکھیں تو اس حقیقت کوتسلیم کئے بغیرکوئی چارہ نہیں کہ ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کے پیچھے محض ان کی جیون ساتھی کاہاتھ نہیں بلکہ وہ سرتاپا کارفرمانظرآتی ہیں۔ اور ہمارے محترم صفدر ہمدانی صاحب کسی جھجھک کے بغیر برسر محفل اس حقیقت کے معترف بھی دکھائی دیتے ہیں ۔ محترم صفدر ہمدانی ایک زندہ دل ادبی شخصیت ہی نہیں ، ایک…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ طاہرہ اقبال (مضمون)
طاہرہ اقبال طاہرہ اقبال اِن دنوںگورنمنٹ کالج فار ویمن یونی ورسٹی، فیصل آباد میں صدر شعبۂ اُردو، ایک محقق، نقاد،اور فکشن نگار ہیں۔اِس وقت اُن کا شمار اہم فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ طاہرہ اقبال نے چار افسانوی مجموعے سنگ بستہ، ریخت، گنجی بار، ایک ناولٹ مٹی کی سانجھ، نگین گم گشتہ سفر نامے تنقیدی کتب منٹو کااسلوب، پاکستانی اُردو افسانہ اور دو ناول نیلی بار اور گراں لکھے ہیں۔ اُن کے افسانے دیگر فکشن نگاروں کی نسبت قدرے طویل ہوتے ہیں کیوں کہ وہ اکثر دیہات کے پس منظر…
Read Moreڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری …. سعدیہ وحید
ڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری وِیکی پیڈیا اور چند دیگر سماجی ویب سایٹس پر موجود معلومات کے مطابق 28 جنوری 1993ء ڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری کا یومِ وفات ہے ۔ جسٹس ڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری‘ اسلامی نظریاتی پاکستان کونسل کے ایک اہم رُکن، اسلامی علوم اور جدید سائنسز سے آراستہ ایک معروف عالم تھے۔ انہیں روایتی اور جدید عربی زبان میں گہری اور مستند مہارت حاصل تھی۔ڈاکٹر مفتی سید شجاعت قادری نے مختلف عہدوں پر کام کرنے کے علاوہ خود کو ایک بڑی تعداد میں…
Read Moreصدام ساگر ۔۔۔ بے باک قلم کا سپاہی سرور ارمان
سرور ارمان بہ حیثیت شاعر بھی تسلیم کیے گئے ہیں اور بہ حیثیت مدیر بھی۔ مگر اُن کی وجہِ شہرت شاعری ہے، وہ شاعری عام ڈگر سے ہٹ کر کرتے ہیں اور نثر لکھتے ہیں تو تحقیق کی اتھاہ گہرائیوں میں اُتر کر موجودہ حقائق کی حقیقت کو بڑی صاف گوئی کے ساتھ بیان کرتے ہیں، یہی ان کا وصفِ خاص ہے۔ سرور ارمان ترقی پسند فکر کو آگے بڑھانے والے شاعر اور ادیب ہے ان کے فن کا اعتراف اُردو ادب کے جید ناقدین، مشاہیرِ ادب، اہلِ علم و…
Read More