سجاد حسین ساجد ۔۔۔ وجودِ ذات میں روشن جہان کیسے لگے

وجودِ ذات میں روشن جہان کیسے لگے مکاں میں رہتے ہوے لا مکان کیسے لگے سجا کے آنکھ میں لاشے حسین خوابوں کے وفا کے لٹتے ہوے کاروان کیسے لگے میں ممکنات سے لمحے چرا کے لایا ہوں جو درد تونے کیے مجھ کو دان، کیسے لگے لطیف وقت تھا جو تیرے ساتھ بیت گیا جو ٹوٹے ہجرکے پھر آسمان، کیسے لگے تجھے کہا تھا: محبت فریب دیتی ہے سجائے عشق کے دل پر نشان، کیسے لگے ہوا کے زور سے گر تو گئے درخت‘ مگر پرندے پھرتے ہوے بے…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے

دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے مگر فطرت کہاں سب نقش لوحوں پر بناتی ہے پَروں میں مضطرب کن آسمانوں کی اڑانیں ہیں تمنا کس بہشتِ شوق کے منظر بناتی ہے جہانِ دل میں کیا کیا اشتیاق آباد ہیں دیکھیں نگاہِ لطف اُس کی اب کہاں محشر بناتی ہے یہاں خوشبو کی صورت روز و شب کی دھڑکنوں میں جی یہ دنیا ریت کرنے کے لئے پتھر بناتی ہے فرازِ وقت سے اُس کو صدا دینے تو دے عالی ہوا پھر دیکھ دیوارو ں میں کتنے در…

Read More

ڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ ہوئے چمن میں مرے ترجماں گلاب کے پھول

Read More

آشفتہ چنگیزی

ہمیں خبر تھی زباں کھولتے ہی کیا ہو گا کہاں کہاں مگر آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیتے

Read More

اقبال ساجد

یہ ترے اشعار تیری معنوی اولاد ہیں اپنے بچے بیچنا اقبال ساجد چھوڑ دے

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے

ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ  گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت  سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ کچھ دیر ٹھہر

کچھ دیر ٹھہر ۔۔۔۔۔ زمانے! گلی میں صدا تُو نے دی ہے تو بستی میں کہرام سا مچ گیا ہے شبِ تار میں جگنوؤں کی قطاریں اندھیرے کی دیوار میں دَر بنانے کی کوشش میں ہیں تیرگی منہ چھپاتی ہُوئی پھِر رہی ہے کئی روز سے رات ٹھہری ہُوئی تھی مگر تُو نے آواز دی تو یہ منظر بدلنے لگا ہے مِرا قافلہ پھِر  سے چلنے لگا ہے مگر ٹمٹماتے ہُوئے  جگنوؤں کی قطاروں سے سورج اُبھرنے میں کچھ دیر ہے میری مٹی سنورنے میں کچھ دیر ہے بیٹھ جا…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہے

زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہےفن کو تہذیب کی بارش سے جِلا ملتی ہے سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفرپر نکلیںکرب کی دھوپ طلب سے بھی سوا ملتی ہے کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیںکوئی بتلائے کہاں تازہ ہوا ملتی ہے چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صورتتیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے ہم تو پیدا ہی اذیت کے لیے ہوتے ہیںہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں  کا سفرخواہش قربِ بدن…

Read More

باقی احمد پوری … یہ شہر نہیں آسان میاں

یہ شہر نہیں آسان میاں مشکل ہے یہاں گزران میاں اب کیا ہوگا، کل کیا ہوگا اک دھڑکا ہے ہر آن میاں ان گلیوں میں، بازاروں میں دیکھا ہے کوئی انسان میاں بے سود یہاں ہر سود ہوا نقصان پہ ہے نقصان میاں دیوار نہیں اور در بھی نہیں پھر کاہے کو دربان میاں ناممکن سی جو لگتی ہے اس بات کا ہے امکان میاں اس خاک سے خاک ہی نکلے گی یہ خاک تو خود ہی چھان میاں یہ کیسی جنگ مسلط ہے یہ کیسا ہے گھمسان میاں میں…

Read More