ویں اس کو اپنانے تک اپنا آپ بنانے تک چل پڑتے ہیں نیند میں بھی پھر اک خواب کے آنے تک تکیہ بھیگا رہتا ہے تیرا راز چھپانے تک آس کی کھڑکی کھلتی ہے کوئی بات سنانے تک سائے چلتے رہتے ہیں اک چہرہ اپنانے تک دریا چاند ستارا میں سب ہیں آنے جانے تک دل پر چوٹ کا حاصل بھی بس اک پیار جتانے تک خواب کو زندہ رکھا ہے ظالم تیرے آنے تک
Read MoreTag: Aasnath Kanwal
آسناتھ کنول ۔۔۔ اے ہنر آشنا! ہنر خاموش!
اے ہنر آشنا! ہنر خاموش! کیوں ترے ضبط کا ہے در خاموش جب بلائیں زمین پر اُتریں کیوں رہا سب کا سب نگر خاموش نطق و لب پر بھی نیند طاری ہے اور تری آنکھ کا سحر خاموش نوچتی پھر رہی ہے ذہنوں کو چیختی کاٹتی نظر خاموش چپ ہیں صحرا بھی اور دریا بھی موج در موج ہے ڈگر خاموش وہ ہمالہ کا ایک جنگل تھا اور جنگل بھی اس قدر خاموش کیسے چُپ چاپ دونوں کاٹ گئے زندگی کا حسیں سفر خاموش آس کا اک دیا جلا تو…
Read Moreآسناتھ کنول ۔۔۔ ٹوٹتے رہنے کے آزار میں آ جاتے ہیں
ٹوٹتے رہنے کے آزار میں آ جاتے ہیں کتنے بھولے ہیں ترے پیار میں آ جاتے ہیں ماضی و حال کے سب زخم بھلاتے ہوئے ہم دیکھ لیں تجھ کو تو سنسار میں آ جاتے ہیں سوچتے رہنے سے جنت نہیں ملنے والی ہم ترے حلقہ آثار میں آ جاتے ہیں اپنے ہی دھیان میں ڈوبے ہوئے منزل کی طرف کیوں سمند ر میری رفتار میں آ جاتے ہیں ہم ہوائوں کی طرح خانہ بجاں پھرتے ہیں کسی در میں کسی دیوار میں آ جاتے ہیں یہ ستم کم تو…
Read More