آج محصور ہیں دیمک زدہ دیواروں میںہم بھی شامل تھے کبھی شہر کے معماروں میں آخرش ہاتھ جلا ہی لیے اپنے ہم نےجانے کیوں پھول نظر آتے تھے انگاروں میں یہ کسی سے نہ کہا لعل و جواہر تھے ہمپتھروں کی طرح بکتے رہے بازاروں میں دیر تک دستکیں دیتی رہی قسمت در پراور ہم اُلجھے رہے اپنے ہی پنداروں میں زندگی تیرے اداکار تھے کیسے ہم بھیسامنے آتے رہے ہیں کئی کرداروں میں وقت ہے کر لو مرمت ابھی گھر کی بیتابابھی روزن نہیں ظاہر ہوئے دیواروں میں
Read More