نسیم سحر ۔۔۔ مَیں کیا بتاؤں کہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا

مَیں کیا بتاؤں کہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا
وہاں نہیں ہوں جہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا

سوال مجھ سے ہؤا ہے، مَیں کیوں نہیں ہوں وہاں
جواب یہ ہے کہ ہاں ، مُجھ کو ہونا چاہیے تھا

یہ میرے عہد کی اَرزانیوں نے ظلم کیا
وگرنہ اَور گراں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا

چلا تھا شوق سے جب منزلِ یقیںکی طرف
وَرائے وہم و گماں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا

بڑی شدید تھی خاموشی صحنِ مسجد کی
وہاں بوقتِ اذاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا

قدم قدم پہ بھٹکنے کا خطرہ تھا لاحِق
سو اپنا بھی نگراں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا
اگر یہ لازمی تھا اپنا احتساب کروں
ملالِ سود و زیاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا

نہاں میں رہنا ہی ترجیح تھی مری، پھر بھی
کبھی کبھی توعیاںمُجھ کو ہونا چاہیے تھا

الاؤ بُجھ بھی چکا تھا اگر نسیمِ سحرؔ
بلند ہوتا دھواںمُجھ کو ہونا چاہیے تھا

Related posts

Leave a Comment