قاضی حبیب الرحمن ۔۔۔ رباعیات

رباعیات

دریائے مسائل ، تنَہ نا ہا یا ہو
سب غرقۂ ساحل ، تنَہ نا ہا یا ہو
سنّاٹے کا یہ جشن مبارک ، اِمشب
تنہا ہے مرا دل ، تنَہ نا ہا یا ہو
٭
بے قیدِ زمانی و مکانی کوئی
دل میں ہے دمکتی راجدھانی کوئی
اِمکان و مُحال کے مباحث سے وَرا
اے مُطربِ جاں ، رام کہانی کوئی!
٭
کیوں بند ہے راہِ زندگانی ، اَعنی
وہ کیا ہوئی طبع کی روانی ، یعنی
جب آتشِ اِحساس میں ڈَھل جاتے ہیں لفظ
تب کِھلتے ہیں دل میں جاودانی معنی
٭
ہر ذرّے کے اندروں اُتر کر دیکھا
اک اک منظر ، ٹھہر ٹھہر کر دیکھا
ملتی نہیں کچھ اِس دلِ بے دل کی خبر
موجود کی حد سے گزر کر دیکھا

٭
شب ، خواب میں کیا عقدِ ثُریّا ڈولے!
صبح آئے تو تعبیر کی نیّا ڈولے
رفتار کی تیزی نے سنبھالا ہُوا ہے
ممکن نہیں تقدیر کا پیّا ڈولے
٭
میلے میں جسے خود سے بھی کٹ کر دیکھا
پلکوں کی اوٹ سے سمٹ کر دیکھا
وہ صورتِ تعبیر دوبارہ نہ ملی
اک خواب کو سو طرح پلٹ کر دیکھا
٭
تاریک زمانوں کو اُجالا ہُوا ہے
اک چاند ، تصور میں اُچھالا ہُوا ہے
کیا چَین سے کٹتے ہیں شب و روزِ حیات
ہر کام کو آیندہ پہ ٹالا ہوا ہے
٭
دو گام ، تعلق نہیں چلنے والا
یہ برف کا پُل کہ ہے پگھلنے والا
تُو دِل کو دِماغ میں بدل کر ، خوش ہے
میں دِل میں دِماغ کو بدلنے والا!
٭
ہر شاخ پہ یہ شورِ عنادل کیا ہے؟
ہر موجِ صبا ، موجِ سلاسل ، کیا ہے؟
ہر منظرِ خوش دیکھ کے غمگیں رہنا
کُھلتا نہیں کچھ کہ یہ مرا دل ، کیا ہے!

Related posts

Leave a Comment