قاضی حبیب الرحمٰن ۔۔۔ حمدیہ قصیدہ

حمدیہ قصیدہ زوروں پر ہے چشمہء نور اپنا ظرف، اپنا مقدور! شمسِ حقیقت کے ہوتے سارے وہم و گُماں کافور ایک ہَوا کی آہٹ پر ناچ اُٹھا شہرِ مَزمور! کسی خیال کی لذّت میں رہتا ہے غم بھی مَسرور ایک خَلا کی نسبت سے دل ہے خَلوت سے مَعمور جیسے ہے ہر چیز، یہاں اپنے نشّے میں مَخمور سو بھی کم کم کُھلتا ہوں حسبِ استعدادِ ظُہور خود سے چھپتا پھرتا ہوں اپنے اندر اک مَفرور! پردے کا ہے سارا کھیل ورنہ ، میں کیا! کون حضور! اِک دریا کی…

Read More

قاضی حبیب الرحمن ۔۔۔ رباعیات

رباعیات دریائے مسائل ، تنَہ نا ہا یا ہو سب غرقۂ ساحل ، تنَہ نا ہا یا ہو سنّاٹے کا یہ جشن مبارک ، اِمشب تنہا ہے مرا دل ، تنَہ نا ہا یا ہو ٭ بے قیدِ زمانی و مکانی کوئی دل میں ہے دمکتی راجدھانی کوئی اِمکان و مُحال کے مباحث سے وَرا اے مُطربِ جاں ، رام کہانی کوئی! ٭ کیوں بند ہے راہِ زندگانی ، اَعنی وہ کیا ہوئی طبع کی روانی ، یعنی جب آتشِ اِحساس میں ڈَھل جاتے ہیں لفظ تب کِھلتے ہیں دل…

Read More

قاضی حبیب الرحمٰن

عجب زمانوں کا درپیش ہے سفر کوئی کہ تھک کے بیٹھ گئی راہ میں تمنا بھی

Read More

قاضی حبیب الرحمان ۔۔۔ ہر آن پھیلتا جاتا ہے غم کا صحرا بھی

غزل​ ہر آن پھیلتا جاتا ہے غم کا صحرا بھی بجھا سکا نہ مری پیاس ہفت دریا بھی عجب زمانوں کا درپیش ہے سفر کوئی کہ تھک کے بیٹھ گئی راہ میں تمنا بھی گزرتی جاتی ہے ہر سانس زندگی اپنی ٹھہر سکا کہیں دم بھر، ہوا کا جھونکا بھی ہزار بار مری جاں ، اسے غنیمت جان! نگاہ بھر کو جو ہے فرصتِ تماشا بھی دوئی نہیں ہے محبت کے تجربے میں کوئی مری طلب ہے تری آنکھ سے ہویدا بھی اس اک امید پہ خود کو بھی تیاگ…

Read More